ملفوظات (جلد 5) — Page 123
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۳ جلد پنجم رض اگر یہ عذاب ہے تو ہم میں سے لوگ کیوں مرتے ہیں اس پر خدا نے فرمایا إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ الخ (ال عمران:۱۴۱) پس اگر ہماری جماعت میں سے کوئی بھی نہ مرے اور کل قو میں مرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آجاوے اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتی کہ گورنمنٹوں کو بھی مسلمان ہونا پڑے ۔ لے اور یہی سر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی فوت ہوئے تھے ۔ ہاں سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا براہین احمدیہ میں بھی لکھا ہے الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا ايْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اب خدا جانے کہ کون ظلم سے خالی ہے کسل اور غفلت بھی ظلم ہے مگر تا ہم دعا کرنا ضروری ہے اس ں جماعت کا قطعاً محفوظ رہنا یہ الفاظ کہیں ہم نے نہیں لکھے اور اور نہ نہ یہ یہ سنت اللہ ہے اگر ایسا ہو تو پھر تو اكراة في الدین ہو جاتا ہے جب سے انبیاء پیدا ہوئے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا احمقوں کو ان بھیدوں کی خبر نہیں خدا کا وعدہ نسبتاً حفاظت کا ہے نہ کہ کلیہ " پھر یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ اگر ہماری جماعت کا ایک مرتا ہے تو اس کے بدلے تین سو آ جاتے ہیں ۔ انجام ہمیشہ متقیوں کے واسطے ہی ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ ایسا کھلا کھلا فرق کر دیوے تو میں نہیں جانتا کہ مذہبی اختلاف ایک ذرہ بھر بھی رہ جاوے حالانکہ اس اختلاف کا قیامت تک ہونا ضروری ہے۔ بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مرے گا یہ ل الحکم میں مزید لکھا ہے۔ اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب ہی نہ رہے حالانکہ ایسا نہیں ہو گا۔ دوسر۔ ا نہیں ہوگا۔ دوسرے مذاہب بھی قیامت تک باقی رہیں گے۔ خدا تعالیٰ نشانوں میں قیامت کا نمونہ دکھا نا نہیں چاہتا اور نہ کبھی ایسا ہوا بلکہ اُن میں کسی حد تک فناضرور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں سے بھی بعض ان جنگوں میں شہید ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رض علی کو بھی تکلیف پہنچی لیکن انجام نے دکھایا کہ آنحضرت کا نشان کیسا عظیم الشان تھا۔ اسی طرح پر یہاں بھی ہے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹) الحکم سے ۔ اس لیے دُعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ بالکلیہ حفاظت کا وعدہ کہیں نہیں ہے بلکہ الہامات میں استثنا کے الفاظ قریباً موجود ہیں اس جماعت کے قطعاً محفوظ رہنے کا وعدہ نہیں بلکہ نسبتا ہے اور سنت اللہ بھی یہی ہے۔ دیکھنا یہ کا ہے اللہ چاہیے کہ طاعون سے کون گھٹتا اور کون بڑھتا ہے ۔“ (الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۹)