ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 125

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۵ جلد پنجم دلوں میں نہ رہے جہاں خاص گھر کا اس نے وعدہ کیا ہے کہ اني أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ وہاں بھی ایک فقرہ ساتھ رکھ دیا ہے کہ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْ ا بِاسْتِكْبَارِ فرمایا کہ دیکھو بچہ جب پیٹ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رجوع کب ہوگا؟ میں ہوتا ہے تو اگرچہ زندہ ہوتا ہے مگر تا ہم خوشی پر ہنس نہیں سکتا اور تکلیف پر رو نہیں سکتا ۔ بلاؤ تو بولتا نہیں ہے مگر جب باہر آتا ہے تو اس کو حواس مل جاتے ہیں ۔ ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے بلانے سے بولتا بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اول زندگی جو کہ پیٹ میں تھی وہ اصلی اور حقیقی زندگی بی تھی حواس اس میں نہ تھے جب خدا ایک بات ڈالتا ہے تو حواس آ جاتے ہیں ۔ یہی حال مولوی محمد حسین صاحب کا ہے جب خدا کی خدا کی طرف سے کوئی بات دل میں ڈالی جاوے گی تو اسی وقت تبدیلی ہو جاوے گی ۔ جو بلائے جاتے ہیں وہ آتے ہیں اور جو بلائے نہیں جاتے وہ کفر میں ترقی کرتے ہیں اگر قرآن شریف نہ آتا تو ابو جہل اعلیٰ درجہ کے لوگوں میں شمار ہوتا۔ اسی طرح صدہا آدمیوں کو ہم صلحاء سمجھتے ہیں مگر جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کیا تو معلوم ہوا کہ خدا کے نزدیک ان میں صلاحیت نہ تھی کسی کے باطن کا کسی کو کیا علم ہے؟ مگر حق پیش کرنے پر حقیقت کھل جاتی ہے کہ خدا کی آواز سننے والے کون ہیں اور اس سے انکار کرنے والے کون؟ کل سے اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر صاحب گورداسپور سے دورہ پر اور تحصیلدار ایک غیر معمولی مجلس صاحب بٹالہ سے مینار کی تعمیر کے ملاحظہ کے واسطے تشریف لائے ہوئے تھے حضرت اقدس جب سیر سے واپس تشریف لائے تو کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد ہر دو عہدہ دار صاحبان نے حضرت اقدس سے ملاقات کی طاعون پر ذکر اذکار ہوتے رہے اور مینار کے متعلق بھی تحصیلدار صاحب نے چند امور استفسار کئے اس موقع پر جو کچھ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا اسے ہم یکجائی طور پر درج کر دیتے ہیں ۔ (ایڈیٹر )