ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 117

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۷ جلد پنجم ۵ رمتی ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) نو وارد صاحب نے بیان کیا کہ رات کو میں قبول حق کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے نے خواب دیکھا کہ میں آپ سے سوال کر رہا ہوں کہ اگر آپ کو عیسیٰ علیہ السلام تسلیم کیا جاوے اور ہم اس امر میں غلطی میں ہوا لی میں ہوں تو پھر آپ ذمہ دار ہیں ۔ فرمایا کہ اگر ہم نے یہ بار اپنے ذمہ نہ لیا ہوتا تو کئی لاکھ انسانوں کی دعوت کیسے کرتے؟ بلکہ خود خدا نے یہ ذمہ داری لی ہے۔ جو ہم سے انکار کرتا ہے تو پھر اسے تمام سلسلہ نبوت سے انکار کرنا پڑے گا۔ مسیح علیہ السلام آئے تو اس کو نہ مانا اور یہ حجت پیش کی کہ اس سے پیشتر الیاس نے آنا ہے۔ حضرت مسیح نے یہی جواب دیا کہ الیاس کی طبیعت اور خو پر یحیی آگیا ہے اور یہی الیاس کا آنا ہے۔ غرض کہ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں تو پھر وہ نشان کیسے ظاہر ہوتے ہیں جو کہ مسیح کے لیے مقرر تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو یہود کا یہی اعتراض تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ہوگا۔ خدا اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ اس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ہر ایک وقت پر عقلمند تو مانتے رہے اور بیوقوف ہمیشہ ضد کرتے رہے کہ سب باتیں پوری ہو لیں تو مانیں گے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد مولوی ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں اول نشانہ مولوی ہی ہوا کرتے ہیں۔ دنیا داروں کو تو دین سے تعلق ہی کم ہوتا ہے جب سے یہ سلسلہ نبوت کا جاری ہے یہ اتفاق کبھی نہیں ہوا کہ مولویوں کے پاس جس قدر ذخیرہ رطب و یابس کا ہو وہ حرف بحرف پورا ہوا ہو۔ دیکھ لو ان ہی باتوں سے اب تک یہودیوں نے نہ مسیح کو مانا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کو قبول کرنا ایک نعمتِ الہی ہے یہ ہر ایک کو نہیں ملا کرتی اس لیے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ خدا اسے قبول کرنے کی توفیق عطا کرے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۱