ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 118

ملفوظات حضرت مسیح موعود لو ۶ رمتی ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) ۱۱۸ نو وارد صاحب نے دریافت کیا کہ پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں گھنگھر دوائے ۔ رو والے بالوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کہ جلد پنجم احادیث ایک ظنی شے ہے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ جو آنحضرت کے منہ سے نکلا ہو وہی ضبط ہوا ہو معلوم نہیں کہ اصل لفظ کیا ہو پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ جب خبروں میں کوئی ایسی خبر موجود ہو جو ثابت شدہ واقعہ کے برخلاف ہو تو اسے بہر حال رڈ کرنا پڑے گا۔ اس وقت جو فتنہ موجود ہے تم اس کی نظیر کسی زمانہ سابقہ میں دکھاؤ کہ کبھی ہوا ہے؟ پھر سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے اور ادھر دجال کا فتنہ بڑا رکھا گیا ہے اور دجال کے معنے بھی لغت سے معلوم ہو گئے تو اب شک کی کون سی جگہ باقی رہ گئی ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر استعارات صرف دجال کے معاملہ میں ہوتے اور کسی جگہ نہ ہوتے تو بھی کسی کو کلام ہوتا کہ تم کیوں تاویل کرتے ہو مگر دیکھنے سے پتا لگتا ہے کہ خود قرآن شریف اور نیز احادیث بھی استعارات سے بھرے پڑے ہیں اور نہ اس امر کی ضرورت تھی کہ ہر ایک استعارہ کی حقیقت کھولی جاوے کیا آج تک دنیا کے سب امور کسی نے جان لیے ہیں جو اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ ایک ایک لفظ کی حقیقت بتلاؤ ۔ دستور ہے کہ موٹے موٹے امور کو انسان سمجھ کر باقی کو اسی پر قیاس کر لیتا ہے۔ توفی کا لفظ صرف انسانوں پر ہی آیا ہے دیگر حیوانات پر استعمال نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے توفی کہ اس وقت دہر مطبع لوگ بھی تھے جو کہ حشر نشر کے قائل نہ تھے انکا انعقاد تھا کہ کوئی ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۳۲ میں ۶ را پریل ۱۹۰۳ء کی تاریخ لکھی ہے جو سہو معلوم ہوتا ہے ترتیب مضمون اور ترتیب ڈائری کے لحاظ سے دراصل یہ ۶ رمئی کی ڈائری ہے ۔ ۶ را پریل کی ڈائری تو البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۶ ، ۱۰۷ میں درج ہے۔ (مرتب)