ملفوظات (جلد 5) — Page 115
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ جلد پنجم جاتے ہیں اور ارتداد کا جرم ان میں سے ہر ایک کی گردن پر سوار ہے حنفی وہابیوں کو اور وہابی حنفیوں کو جہنمی بتاتے ہیں شیعہ ان سب کو راہ راست سے بھٹکے ہوئے کہتے ہیں۔ خارجی ہیں سو وہ شیعہ کی جان کے دشمن ہیں غرض ہر ایک فرقہ دوسروں کے خون کا پیاسا ہے اب ان میں سے اختلاف کے دور کرنے کے واسطے جو حکم آوے گا کیا وہ ان کی مساوی باتوں کو مان لے گا ؟ اگر ایسا کرے گا تو دوسرا ناراض ہو جاوے گا۔ یہاں ہر ایک فرقہ یہی چاہتا ہے کہ میری اگر ساری باتیں وہ نہ مانے گا تو وہ خدا کی طرف سے نہ ہوگا ۔ غرض ہر ایک نے اس کے صدق کا معیار اس کے تمام عقائد کو مان لینا مقر ر کیا ہوا ہے مگر کیا وہ ایسا ہی کرے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ ہر ایک راستی کا حامی اور ناراستی کا دشمن ہو گا اگر ایسا نہیں تو وہ حکم ہی کس کام کا ہوا ؟ اور ایسے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کے وجود سے عدم بہتر ہے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ ان بے چارے لوگوں کی عادت ہی ہو گئی ہے اور بچپن سے کان میں ہی یہی پڑتا آیا ہے کہ وہ اس طرح آسمان سے ایک مینار پر اترے گا پھر سیڑھی مانگے گا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ نیچے اترے گا پس آتے ہی نہ بھلی نہ بری کفار کو تہ تیغ کر کے ان کے اموال واملاک سب مسلمانوں کے حوالے کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں کو جو مدتوں سے سادہ لوح پر کندہ ہوگئی ہیں دور کریں تو کس طرح ؟ وہ بے چارے معذور ہیں یہ مشکلات ہیں اور ان کا دور ہونا بجز خدا تعالیٰ کی خشیت کے ہرگز ممکن نہیں ۔ ( قرآن نے ) توفیتنی فرمایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دیئے کہ مُتَوَفِّيكَ - مُمِيتُك تو پھر اس کے بعد خواہ نخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھانا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بے چارہ تو خود بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں بھلا اب ہمیں کوئی بتادے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں ۔ اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پاچکے ہیں ورنہ ان کے تثلیث کفارے اور علاوہ اعتقادات پر ایمان لاؤ اور آنحضرت کی نبوت کا انکار کرو۔۔۔۔۔ یہ جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة: ۷) اس میں ہم نے غور کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے اول تو عیسوی صفات اور