ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 114

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۴ جلد پنجم علامت یہ ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہوگا مگر حضرت مسیح نے اس کی یہی تاویل کی تھی کہ یہی شخص یعنی یوحنا ( یحییٰ ) ہی الیاس اور یہ اس کی (الیاس) خو بو لے کر آیا ہے اسی کو ایلیا مان لو۔ وہ روبارہ نہیں آوے گا جس نے آنا تھا وہ آچکا۔ چاہو مانو چاہو نہ مانو۔ غرض حضرت عیہ بھی یہ ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لیے ایک دلیل ہو سکتا ہے اگر حضرت عیسی یہود کے مقابل میں حق پر تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسی کی نبوت کا انکار کریں بعد میں ہمارا معاملہ آئے گا۔ اگر واقعی طور پر ان یہودیوں کی طرح یہ یہودی بھی حق پر ہیں تو پھر اوّل تو حضرت عیسی کی نبوت کا ثبوت نہیں تو ان کا آسمان سے آنا کجا ؟ پس یا تو یہ مسلمان اس بات کو مان لیں کہ آسمان پر کوئی شخص زندہ نہیں جایا کرتا اور نہ ہی وہ دوبارہ واپس آیا کرتے ہیں اور وہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات پائے ہوئے مان لیں اور یا حضرت عیسی کی نبوت سے انکار کریں اور اس طرح پر ان کی آمد کے متعلق تمام امیدوں سے ہا تھو دھو لیں غرض ان کی منفرد اور خاص قسم کی زندگی ایک خطرناک قسم کا شرک ہے غرض دوسری قسم کے دلائل عقلی تھے سوان کے رُو سے بھی یہ قوم ملزم ہے۔ (۳) تیسرا ذریعہ ایک صادق کی شناخت کا اس کے ذاتی نشانات اور خارق عادت پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور منہاج نبوت پر پرکھی جاتی ہیں سو اس قسم کے دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بہت جمع کر دیئے ہیں کیا زمینی، کیا آسمانی، کیا مکانی، کیا زمانی، ہر قسم کے نشانات اس نے خود ہمارے لیے ظاہر فرمائے ہیں۔ آنحضرت کی اکثر پیشگوئیوں کا ظہور بھی ہو چکا ہے آسمان نے ہمارے لیے گواہی دی زمین ہمارے واسطے شہادت لائی اور ہزاروں خارق عادت ظہور میں آچکے ہیں۔ زمانہ ہے سو وہ خود زبانِ حال سے چلا رہا ہے کہ ضرور کوئی آنا چاہیے قوم کے ۷۳ فرقے ہو گئے ہیں یہ خود ایک حکم کو چاہتے ہیں ان تمام فرقوں میں ایسے ایسے اختلاف پڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکفیر کے فتوے لگائے الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶