ملفوظات (جلد 5) — Page 113
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۳ جلد پنجم اور قبول کرنے کے لائق نہیں مثلاً قرآن شریف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئے ہیں مگر اگر حدیث میں یہ ہو کہ حضرت موسیٰ حضرت ابراہیم سے پہلے ہوئے ہیں تو وہ بالکل رڈی ہے اور ماننے کے لائق نہیں یا ایسی ہی اگر اور کوئی مخالفت صریح قرآن شریف کی کوئی حدیث کرے تو وہ بھی اس ذیل میں داخل ہے۔ احادیث میں احتمال صدق اور کذب دونوں طرح کا ہے کیونکہ احادیث تو قرآن شریف کی طرح اس وقت رسول اللہ نے جمع نہیں کیں اور نہ ہی ان کا قرآن شریف کی طرح کوئی نام رکھا ہے بلکہ آپ کا سے قریباً اڑھائی سو برس بعد جمع ہوئی ہیں غرض ان کے صدق کذب کا معیار قرآن شریف ہے پس جو احادیث قرآن شریف کے معارض نہیں وہ ماننے کے لائق ہیں۔ یہ جو سے فرقے بن گئے ہیں یہ بھی تو ان احادیث کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ جب لوگوں کی توجہ قرآن شریف سے ہٹ گئی اور احادیث کو قرآن شریف پر قاضی جانا تو یہاں تک نوبت پہنچی۔ (۲) دوسرا ذریعہ عقل ہے جس سے انسان حق کو پہچان سکتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں مجرمین کے الفاظ درج ہیں کہ کو كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي اَصْحٰبِ السَّعِيرِ ( الملك : 11) سواگر ان لوگوں سے سوال کیا جاوے کہ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر چلا جاوے اور دو ہزار برس تک وہیں بیٹھا رہے اور کسی قسم کی ضروریات اور عوارض اسے نہ لگیں کیا و کوئی عقل ہے جو اس خصوصیت کو مان سکے؟ بھلا ان لوگوں سے پوچھا جاوے کہ اس خصوصیت کی جو تم نے حضرت عیسی میں مانی ہے کیا وجہ ہے یہ تو ایک قسم کا بار یک شرک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (الانبیاء : (۸) اللہ تعالیٰ انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ ہر ایک امر میں نظائر ضروری ہیں ۔ جس چیز میں نظیر نہیں وہ چیز خطر ناک ہے آج کل جس طرح کا ہمارا جھگڑا ہے اسی قسم کا ایک جھگڑا پہلے بھی اہل کتاب میں گذر چکا ہے اور وہ الیاس کا معاملہ تھا ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مسیح آسمان سے نہیں نازل ہو گا جب تک ایلیا آسمان سے دوبارہ نہ آئے۔ اسی بنا پر جب حضرت مسیح آئے اور انہوں نے یہود کو ایمان کی دعوت کی تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہمارے ہاں مسیح کی