ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 112

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۲ جلد پنجم ہزاروں انوار سے محروم بھی رکھتا ہے ورنہ ہمارا معاملہ تو نہایت ہی صاف اور کھلا کھلا ہے کیسے ہی دلائل اور براہین سے ایک امر کو مدلل کر کے کیوں نہ بیان کیا جاوے عادت و رسم کا پا بند ضرور اس کے ماننے میں پس و پیش کرے گا اور جب تک وہ اس حجاب کو پھاڑ کر باہر نہ نکلے اسے حق لینا نصیب ہی نہیں ہوتا۔ آنحضرت کی صداقت کیسی اجلی اور اصفی تھی مگر ان کے دعوے کے وقت بھی عیسائی راہبوں اور یہودی مولویوں نے جو عادت اور رسم کے پابند تھے ہزاروں عذر تراشے اور آپ کو صادق کہنے کی بجائے کا ذب کا خطاب دیا گو یا رسم اور عادت کی ظلمت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا ہوا تھا کہ وہ نور کو ظلمت کہتے تھے ورنہ آپ کے معجزات ، بینات اور فیوض اس قدر کامل اور اعلیٰ تھے کہ کسی کو ان سے انکار ممکن نہ تھا۔ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قسم دلائل اور بینات تسلی پانے کے تین طریق ہمارے اسے جمع کر دیے ہیں انان کے تسلی پاے کے تین ہی طریق ہوا کرتے ہیں۔ (1) اول نقلی دلائل ۔ سو وہ قرآن شریف کے نصوص سے ثابت ہیں کیونکہ جو شخص قرآن شریف کو کلام الہی مانتا ہے اسے تو اس بن چارہ نہیں بلکہ اس کا ایمان ہی کلام الہی کے بغیر ناقص ہے۔ نقلی دلائل کا دوسرا حصہ احادیث ہیں سوان میں سے وہ احادیث قابل پذیرائی ہیں جو قرآن شریف کے معارض نہ ہوں کیونکہ جو حدیث قرآن شریف کے مخالف معارض ہو۔ وہ رڈی ہے ل البدر میں ہے ۔ ”کیا باعث ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کامل اور لاثانی آوے اور پھر نہ مانا جاوے؟ ماں باپ سے جو ایک عادت بخل کی چلی آتی ہے وہ امر حق کو سمجھنے نہیں دیا کرتی ۔ اب اس وقت بھی طریق تسلی اختیار کرنے میں یہی مشکلات پڑے ہیں ۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۱،۱۳۰) البدر میں ہے ۔ جس کو جس کو خدا پر یقین ۔ پر یقین ہے اور وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے وہ ایک آیت کا جانتا آیت سن کر کب دلیری کرے گا کہ اس کی تکذیب کرے۔ صریح نص سے انکار مشکل ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳۱)