ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 111

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴ رمتی ۱۹۰۳ء (بوقت سیر ) جلد پنجم مہمانوں کے انتظام مہمان نوازی کی نسبت ذکر ہوا۔ اکرام ضیف فرمایا۔ میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس لیے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لیے بھجبوری علیحدگی ہوئی ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔' در بار شام ) فرمایا کہ رسوم و عادات عادات اور رسوم کا قلع قمع کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے اور یہی ایک حجاب ل البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۰ ہے البدر میں لکھا ہے کہ ”ایک نوجوان مولوی صاحب کا نپور سے تعلیم پا کر اپنے وطن ڈیرہ غازی خان کی طرف جارہے تھے کہ بعض تحریکات سے ان کو یہ خیال ہوا کہ تحقیق کے لیے قادیان بھی آویں۔ چنانچہ وہ تشریف لائے اور اُن کی ملاقات حکیم نورالدین صاحب سے ہوئی۔ حکیم صاحب نے ان کو کہا کہ آپ بہت استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ امر حق ظاہر کر دیوے۔ بعد از نماز مغرب حکیم صاحب نے ان کی ملاقات حضرت اقدس سے کرائی اور عرض کی کہ یہ بعض امور کے جواب طلب کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ”انسان نے بعض باتیں بطور رسم و عادت کے اختیار کی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ان کا چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے۔ رسمی خیالات کا وہ پابند ہوتا ہے جب تک ان کا قلع قمع نہ کیا جاوے تو حقیقت سمجھ میں نہیں آتی ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۰)