ملفوظات (جلد 5) — Page 110
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۰ جلد پنجم ابتدا میں سمجھ آجاتا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثر مخالف مخالف کا جنازہ مکتب مرتے ہیں ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جاتا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون زدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے۔ خواہ مخواہ تداخل جائز نہیں ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو اگر وہ چاہے گا تو ان کو خود دوست بناوے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے خدا نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلا یا ہے مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنا حصہ ایمان کا بھی گواؤ گے۔ ( مجلس قبل از عشاء ) طاعون پر ذکر ہوا کہ بعض مقامات بالکل تباہ ہو گئے ہیں مگر پھر بھی وہاں تو بہ کا دروازہ بند ہونا کے لوگوں کی فسق فجور کی وہی حالت ہے کوئی تبدیلی پاک نظر نہیں آتی فرمایا کہ سمجھ الٹی ہے تو بہ کے دروازہ بند ہونے کے ایک یہ معنے بھی ہیں۔ لَا رَادَّ لِفَضْلِهِ یہ ایک حضرت اقدس کا پرانا الہام ہے جو مسجد کے اوپر کے حصے میں لکھا ہوا تھا اور عمارتوں کے تغیر و تبدل کے وقت وہ نوشتہ قائم نہ رہ سکا۔ فرمایا کہ اسے پھر لکھوا یا جاوے اور نہیں معلوم کہ اس کے معنے کس قدر وسیع ہیں ۔ حضرت اقدس نے خواب میں دیکھا تھا کہ فرشتے اسے سبز روشنائی سے لکھ رہے ہیں ۔ ہے لے الحکم جلدے نمبر ۱۹ میں صفحہ ۲ پر یہ سوال اور اُن کے جواب بغیر تاریخ کے استفسار اور ان کے جواب کے زیر عنوان درج ہیں ۔ (مرتب) البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲۹، ۱۳۰