ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 109

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۹ جلد پنجم تمام شواہد کو یکجائی نظر سے دیکھا جاوے۔ اگر خدا کی طرف سے آنے والے ماموروں کو ایسی بات نہ ملے تو پھر ان کی سچائی کا ثبوت کیا ہے۔ شاہی سند اس کے پاس ضرور ہونی چاہیے آفتاب نکلا ہوا ہو اور کوئی اسے رات کہے تو کب تک کہہ سکتا ہے۔ خدا کی طرف سے جو آتا ہے وہ دلائل، شواہد، آثار، اخبار، زمینی نشان، آسمانی نشان ، سماوی تائیدات، قبولیت وغیرہ لے کر آتا ہے۔ اس کی اخلاقی حالت اور تعلق خدا سب اس کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک میدان دلائل سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایک نیک دل اگر یقین کے لیے کافی ثبوت چاہے تو اسے فکر کرنے سے مل جاویں گے۔ اگر اعتراض ہو کہ کل دنیا کے لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے تو جواب یہ ہے کہ بعض لوگوں کی فطرت میں روشنی کم اور بدظنی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض ہوا۔ نشان دیکھ دیکھ کر پھر ان کو جھٹلاتے رہے آنحضرت کو فریبی کہا ایسے لوگوں کی فطرت بد ہوا کرتی ہے اسی لیے کہا ہے۔ اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نہ باید داد دست یہ بھی نہ ہو کہ سب کو فریبی جان لے نہ بدظنی کو اتنا وسیع کرے کہ راستبازوں کے فیوض سے محروم رہے نہ اس قدر حسن ظن کہ ایک مگار اور فریبی کو بھی خدا رسیدہ جان لے۔ سچے دل سے دعا کرتا رہے انبیاء وغیرہ خدا کی چادر کے نیچے ہوتے ہیں جب تک خدا نہ دکھاوے کوئی ان کو دیکھ نبیاء وغیرہ خدا کی چادر کے نیچے ہوتے؟ نہیں سکتا ابو جہل مکہ میں ہی رہتا تھا آنحضرت کا نشو و نما دیکھتا رہا آپ کی ساری زندگی دیکھی مگر پھر بھی ایمان نہ لایا۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمود ایک راجہ کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر آخر کار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا۔ الگ خیمہ میں وہ رہا کرتا تھا ایک دن وہ بیٹھا ہوا رورہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گذرا اس نے رونے کی آواز سنی اندر آیا۔ پوچھا اگر وطن یاد آیا ہے تو وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں اس نے کہا اب مجھے دنیا کی ہوس کوئی نہیں ۔ اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھائی نہ کی اور وہ گرفتار کر کے تجھ کو نہ لایا جب تک تو مسلمان نہ ہوا ۔ کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اس وقت