ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد پنجم جو باتیں میں نے اول کہی تھیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں اور میری اس فراست کے شواہد پیدا ہو گئے ہیں مگر افسوس کہ اب وہ اپنی فراست کے خود ہی دشمن ہو گئے ہم نے کون سی بات نئی کی ہے جس حکم کے وہ لوگ منتظر ہیں بھلا ہم پوچھتے ہیں کیا اس نے آکر ہر ایک رطب و یابس کو قبول کر لینا ہے اور وہ وحی کی پیروی کرے گا یا کہ ان مختلف مولویوں کی ؟ اگر اس نے آکر انہی کی ساری باتیں قبول کر لینی ہیں تو پھر اس کا وجود بیہودہ ہے۔ در بار شام ) لے فرمایا۔ آج ہم نے عام طور پر بہت سے بیماروں کے دعا کے جواب میں ایک الہام لیے دعا کی تھی جسپر اللہ تعالی کی طرف سے الہام ہوا کہ آثار صحت یہ نہیں معلوم کہ کسی شخص کے متعلق ہے دعا عام تھی ۔ فرمایا کہ جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس امر کی گرہ کشائی کے لیے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے موافق ( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۷۰) یعنی جولوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں) خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک و بدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ طلب ہی کیا ہے جس پر نتائج حسنه مترتب (نہ) ہوں ۔ جب تک انسان پاک دل اور صدق و خلوص سے تمام نا جائز رستوں اور اُمیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر کے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید ا سے ملے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازہ پر گرتا اور اسی سے دعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذب نصرت اور رحمت ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ظلمت یا البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲۳