ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 103

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۳ جلد پنجم شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعاؤں اور عبادتوں کو اُس کے منہ پر الٹا مارتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اُس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔ اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں۔ اگر اغراض پورے ہو گئے تو خیر ور نہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان لے لیکن اگر اس کے مقابلہ میں صحابہؓ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو ان میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں آتا انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ ہماری بیعت تو بیعت تو بہ ہی ہے لیکن ان لوگوں کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی۔ ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع ، عزت و آبرو اور جان و مال سے دست کش ہو جاتے تھے گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طرح پر ان کی کل امیدیں دنیا سے منقطع ہو جاتی تھیں ۔ ہر قسم کی عزت و عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہو جاتے تھے ۔ کس کو یہ خیال تھا کہ ہم بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہوں گے۔ یہ باتیں ان کے وہم و خیال میں بھی نہ تھیں بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہو جاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت کو لذت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے یہاں تک کہ جان تک دے دینے کو آمادہ رہتے تھے ، ان کی د اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے۔ لیکن یہ الگ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی عنایت کی اور ان کونوازا کو نوازا اور ان کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا اس کو ہزار چند کر دیا۔ ل البدر میں ہے ۔ اغراض نفسانی شرک ہوتے ہیں وہ قلب پر حجاب لاتے ہیں ۔ اگر انسان نے بیعت بھی کی ہوئی ہو تو پھر بھی اس کے لیے یہ ٹھوکر کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارا سلسلہ تو یہ ہے کہ انسان نفسانیت کو ترک کر کے توحید خالص پر قدم مارے، سچی طلب حق کی ہو ورنہ جب وہ اصل مطلوب میں فرق آتا دیکھے گا تو اُسی وقت الگ ہو جاوے گا ۔ کیا صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وس اللہ علیہ وسلم کو اسی واسطے قبول کیا تھا کہ مال و دولت میں ترقی ہو ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمتی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۲۳)