ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 101

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲ رمتی ۱۹۰۳ء (بوقت سیر ) ۱۰۱ جلد پنجم مہر کے متعلق ایک نے پوچھا کہ اس کی تعداد کس قدر ہونی چاہیے؟ فرمایا کہ مہر تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لیے لیے لاکھ لاکھ لاکھ لاکھ رو روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ ا وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بد نیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ریویو پر جو کہ براہین پر لکھا ہے ذکر چلا اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں اس کی حالت پر تعجب ہے کہ جس وقت ایک درخت کا ابھی تخم ہی زمین میں ڈالا گیا ہے اور کسی طرح کا نشوونما اس نے نہیں پایا نہ پتا نکلا ہے نہ پھل لگا ہے نہ کوئی پھول اس نے دیا ہے تو اس معدومی کی حالت میں تو اس کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سو سال میں کہیں نہیں ملتی اور اب جب وہ درخت پھلا اور پھولا اور نشوونما پایا تو اس کے وجود سے انکار کیا جاتا ہے ابتدا میں ہمارے دعوے کی مثال رات کی تھی اس وقت تو شہر کی طرح اسے قبول اور پسند نہ کیا اور اب جب دن چڑھا اور سورج کی طرح وہ چمکا تو آنکھ بند کر لی ۔ جن ایام میں شناخت کے آثار نہ تھے تو ذاتی نقصان اپنا یہ کیا کہ نور کو کھو بیٹھے اور اس وقت یہ امر مخفی اور مستور تھا تو ریو یو لکھے اور رائے ظاہر کی اب یہ وقت آیا تھا کہ وہ اپنے ریویو پر فخر کرتا کہ دیکھو