ملفوظات (جلد 5) — Page 100
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۰ جلد پنجم کو درست نہ کیا ؟ ان کو چاہیے کہ اصل قرآن شریف کی اشاعت کرتے اور اس کو درست کر دیتے لیکن جبکہ انہوں نے بھی یہی قرآن رکھا اور اپنا صحیح اور درست قرآن شائع نہ کیا تو یہ الزام بھی ان کے اپنے ہی سر رہا ان کا حق تھا اور ان پر فرض تھا کہ جب اصل قرآن شریف گم کر دیا گیا تھا تو اس وقت تو بھلا وہ خوف کے مارے کچھ نہ کر سکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد تو ان کو موقع تھا کہ لوگوں میں اس امر کا اعلان کر دیتے کہ اصل قرآن شریف یہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ محرف مبدل ہو گیا ہے مگر جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ الزام ان پر رہا۔ کے براہین میں یہ ایک الہام حضرت اقدس کا درج ہے یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں هُوَ شَعُنَا «نجات دے فرمایا کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدُوَانا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔ فرمایا کہ ایک مامور کی اطاعت اس طرح ہونی چاہیے کہ اگر مامور کی اطاعت کا معیار ایک علم کسی کو دیا جاوے تو خواہ اس کے مقابلہ پر ٹمن کیساہی لالچ اور طمع کیوں نہ دیوے یا کیسی ہی عجز اور انکساری اور خوشامد درآمد کیوں نہ کرے مگر اس حکم پر ان باتوں میں سے کسی کو بھی ترجیح نہ دینی چاہیے اور کبھی اس کی طرف التفات نہ کرنی چاہیے۔ سیرت اور خصلت اس قسم کی چاہیے کہ جس سے دوسرے آدمی پر اثر پڑے اور وہ سمجھے کہ ان لوگوں میں واقعی طور پر اطاعت کی روح ہے صحابہ کرام کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے گا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ اشارہ بھی کیا گیا ہے تو پھر خواہ بادشاہ وقت نے ہی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا یا مگر اس نے سوائے اس اشارہ کے اور کسی کی کچھ مانی ہو۔ اطاعت پوری ہو تو ہدایت پوری ہوتی ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب سن لینا چاہیے اور خدا سے توفیق طلب کرنی چاہیے کہ ہم سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو۔ ہے الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۲۲، ۱۲۳