ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 99

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۹ جلد پنجم رض اے عمر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کونہیں دیکھتا یہ سن کر حضرت عمرؓ نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور اس طرح پر غیرت نبوی کا ادب کیا بھلا جب ایک چھوٹی سی بات کے لیے آپ کا چہرہ غیرت سے سرخ ہو گیا تھا تو کیا اگر وہی مسیح جو بنی اسرائیل کا آخری رسول تھا اگر آپ کی اُمت کی اصلاح اور آپ کی ختم نبوت کی مہر کو توڑنے کے واسطے آجاوے گا تو آپ کو غیرت نہ آئے گی؟ اور کیا خدا تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ہتک کرنی چاہتا ہے؟ افسوس ہے یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور آپ کا کلمہ پڑھ کر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں اور آپ کو خاتم النبیین مان کر پھر آپ کی مہر کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس قدر تعریفوں کے بعد جو قرآن شریف میں آپ کی کی گئی ہیں آپ سے یہ سلوک کرے معاذ اللہ۔ شیعہ لوگوں کے ذکر پر فرمایا کہ ایک غلو کا جواب ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے کہ اگر حضرت حسین کی ایسی ہی شان اور عظمت تھی جو یہ بیان کرتے ہیں اور کل نبیوں کی نجات ان کی ہی شفاعت سے ہوئی ہے تو پھر تعجب ہے کہ قرآن شریف میں آپ کا نام ایک مرتبہ بھی اللہ تعالیٰ نے نہ لیا۔ زید جو ایک معمولی صحابی تھے ان کا نام تو قرآن نے لے لیا مگر امام حسین کا جو ایسے جلیل القدر منجی اور کل انبیاء علیہم السلام کے شفیع ؟ تھے ان کا نام بھی قرآن شریف نے نہ لیا۔ کیا قرآن شریف کو بھی ان سے کچھ عداوت تھی ؟ اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں (جیسا کہ شیعہ کہہ دیتے ہیں ۔ ایڈیٹر ) تحریف ہو گئی ہے اے اور آپ کا نام بھی محرف مبدل ہو گیا ہو گا تو یہ الزام بھی ان ہی کی گردن پر ہے کیونکہ جن کی طرف یہ تحریف منسوب کی جاتی ہے ان کی وفات کے بعد جناب علی" تو زندہ تھے اور وہ اپنے وقت کے مقتدر خلیفہ تھے شیر خدا تھے جب ان کو یہ معلوم تھا کہ اس قرآن میں تحریف کی گئی ہے تو کیوں انہوں نے اس ل البدر سے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کب تقاضا کرتی ہے کہ آپ کی کرسی پر دوسرا بیٹھے اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف کرے اور آپ کا درجہ بلند کر کے آپ کو ہر طرح کے سکھ اور آرام کا مالک بنا دے اور آخر میں آکر یہ دکھ کر بنا دیوے کہ آپ کی کرسی پر غیر کو بیٹھادیوے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۲۲)