ملفوظات (جلد 5) — Page 98
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۸ جلد پنجم آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجود ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کرے گی اور اس کو یہ خیال ہو گا کہ کوئی نا محرم شخص آگیا ہے اس لیے پردہ کرنا چاہیے اور یا خاوند کو غیرت محسوس ہوگی کہ کوئی اجنبی شخص گھر میں آگیا ہے اور میری بیوی سامنے ہے نہیں بلکہ آئینہ میں انہیں خاوند بیوی کی شکلوں کا بروز ہوتا ہے اور کوئی اس بروز کو غیر نہیں جانتا اور نہ ان میں کسی قسم کی ڈوئی ہوتی ہے۔ یہی حالت مسیح موعود کی آمد کی ہے وہ کوئی غیر نہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہے اور کسی نئی تعلیم یا شریعت کو لے کر آنے والا نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بروز اور آپ کی ہی آمد ہے جس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے آنے سے کوئی غیرت دامنگیر نہیں ہوئی بلکہ اس کو اپنے ساتھ ملایا ہے اور یہی سر ہے آپ کے اس ارشاد میں کہ وہ میری قبر میں دفن کیا جاوے گا یہ امر غایت اتحاد کی طرف رہبری کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر تعریف کر کے بھی جو قرآن شریف میں کی گئی ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرا کر بھی پھر کبھی اور آپ کے بعد نبوت کے تخت پر بٹھا دیتا تو آپ کی کس قدر کسر شان ہوتی اور اس سے نعوذ باللہ یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی بہت ہی کمزور ہے کہ آپ سے ایک شخص بھی ایسا تیار نہ ہوسکا جو آپ کی امت کی اصلاح کر سکتا اس سے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہوتی بلکہ یہ امر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے منافی غیرت بھی ہوتا ہر شخص میں دنیا کے ادنی ادنی معاملات کے لیے غیرت ہوتی ہے تو کیا انبیاء علیہم السلام میں خدائی تعلقات میں بھی غیرت نہیں؟ معاذ اللہ اس قسم کے کلمات کفر کے کلمات ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کرتے اس سے کیا مراد تھی؟ یہی کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں اور کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا تھا۔ ایسا ہی جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپ نے تو رات کا ایک ورق دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی غیرت تھی جس سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آنحضرت کو دیکھا تو حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا کہ