ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 97

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۷ جلد پنجم إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ (ال عمران : ۲۰) اگر مسیح بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیح پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا ؟ تو اریخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدائش کو اسی لیے نا جائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جو اعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تو اول قانون قدرت کی حد بست دکھلاوے ۔ یکم مئی ۱۹۰۳ء (در بار شام) ایک فرمایا کہ ایک رؤیا تھی تو وحشت ناک مگر اللہ تعالی نے ٹال ہی دیا۔ دیکھا کہ کوئی شخص رویا کہتا ہے کہ بیل کو میدان میں ذبح کریں گے۔مگر عملی کارروائی نہ ہوئی۔ ذبح نہ ہوا کہ جاگ آگئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنحضرت کی قبر میں مسیح موعود کے دفن ہونے کا سر نے جو یہ فرمایاہے کہ میں موجود جو کی قبر میری قبر میں ہوگی ۔ اس پر ہم نے سوچا کہ یہ کیا سر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہر ایک قسم کی ڈوری اور ڈوئی کو دور کرتا ہے اور اس سے اپنے اور مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کیا ہے اور ظاہر کر دیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کا آنا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے ۔ اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے ڈوئی لازم آتی اور عزت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔ اگر کوئی غیر شخص آجاوے تو غیرت ہوتی ہے لیکن جب وہ خود ہی بروز میں ڈوئی نہیں ہوتی آئے تو پھر غیرت کیسی ! اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲۲