ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 96

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۶ جلد پنجم مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ حضرت مرزا صاحب حج حج نہ کرنے پر اعتراض کا جواب کیوں نہیں کرتے ۔ فرمایا۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا نے اول رکھی ہے اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے یہ یا درکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ خدا کی ہدایت اور راہنمائی سے ہر ایک امر کو بجالاتے ہیں اگر چہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر الہی ارادہ سے کرتے ہیں اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کرنے والے ٹھہریں گے اور مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (ال عمران: ۹۸) کے بارے میں کتاب حج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہوتی ہیں مامورین کا اول فرض تبلیغ ہوتا ہے آنحضرت ۱۳۴ سال مکہ میں رہے آپ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا۔ سوال ۔ کیا قرآن میں کوئی صریح آیت ہے جس سے حضرت عیسیٰ کی بے باپ پیدائش ثابت ہوتا ہے کہ یخ با با کے پیدا ہوئے تھے؟ جواب ۔ فرمایا کہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش خوارق طریق سے ہے کے ویسے ہی مسیح کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا حال بیان کر کے مسیح کی پیدائش کا حال بیان کیا ہے یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت یحییٰ کی پیدائش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائش میں ہے اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدائش کا میں ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑ دیا ؟ اس سے کیا فائدہ تھا ؟ یہ اسی لیے کیا کہ تاویل کی گنجائش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جاذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے۔ پھر اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ دو لے یعنی حضرت زکریا علیہ السلام بہت ہی بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھی ۔“ 66 الحکم جلدے نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ ءصفحہ ۲)