ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 95

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸ را پریل ۱۹۰۳ء ( بوقت ظهر ) ۹۵ مہندی اور وسمہ کی نسبت ذکر ہوا۔ حضور نے فرمایا کہ جلد پنجم مہندی اور وسمہ اکثر ا کا براس طرف گئے گئے ہیں کہ وسمہ نہ لگانا ج نہ لگانا چاہیے یا مہندی لگائی جاوے یا وسمہ اور مہندی ملا کر لے ۲۹ را پریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) ایک شخص کی نئی ایجاد پر ذکر آیا کہ اس کی ایجاد بہت مقبول ہوئی ہے اور اس کے نا پائیدار زندگی ذریعے سے وہ لاکھ ہار و پیر اب کماوے گا۔ فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت آوے گی اور ان کی نظر یہاں تک ہی محدود رہتی ہے لیکن اگر زندگی نہ ہوئی تو کیا فائدہ؟ لوگوں کا دستور ہے کہ ہر ایک پہلو پر نظر نہیں ڈالتے ۔ کے ایک الہام إِنَّا نَرِثُ الْأَرْضَ تَأْكُلُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا - ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء (بوقت میر) ایک الہام جو الفاظ یاد ہیں وہ یہ فرمایا کہ مجھے الہام ہوا مگر اس کا آخری حصہ یاد ہے دوسرے الفاظ یاد نہیں رہے دو وہ یہ ہیں فِيهِ خَيْرٌ وَ بَرَكَةُ اس کا ترجمہ بھی بتلایا گیا ” اس میں تمام دنیا کی بھلائی ہے ۱ ، ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۷