ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 94

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد پنجم ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی مندر خواب آوے تو صدقہ خیرات اور دعا سے وہ بلائل جاتی ہے۔ کسی کے نام سے بطور تفاؤل کے فال پر سوال ہوا۔ تفاؤل فرمایا کہ یہ اکثر جگہ صیح نکلتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تفاؤل سے کام لیا ہے ایک دفعہ میں گورداسپور مقدمہ پر جارہا تھا اور ایک شخص کو سزاملنی تھی میرے دل میں خیال تھا کہ اسے سزا ہو گی یا نہیں کہ اتنے میں ایک لڑکا ایک بکری کے گلے میں رسی ڈال رہا تھا اس نے رسی کا حلقہ بنا کر بکری کے گلے میں ڈالا اور زور سے پکارا کہ وہ پھس گئی وہ پھس گئی میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اسے سزا ضرور ہو گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک دفعہ سیر کو جارہے تھے اور دل میں پگٹ کا خیال تھا کہ بڑا عظیم الشان مقابلہ ہے دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک شخص غیر از جماعت نے راستہ میں کہا السلام علیکم ۔ میں نے اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ ہماری فتح ہو گئی ۔ قُلْنَا يَارْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيُسَمَاءُ أَقْلِعِي - اس طاعون کے متعلق ایک تازہ الہام الہام کے متعلق جہاں تک میری رائے ہے وہ یہ ہے کہ یہ عام شہروں اور دیہات کے متعلق نہیں اور نہ اس سے دوام منع ثابت ہوتا ہے۔ غالباً یہی ہے کہ بعض دیہات اور شہروں میں جن کی نسبت خدا کا ارادہ ہے چند مہینوں تک طاعون بند رہے اور پھر جہاں خدا وند قدیر چاہے چاہے کا پھر پھوٹ وٹ پڑے اور یہ بکلی بند نہیں ہوگی جب تک وہ ارادہ بکمال و تمام پورا نہ ہو جاوے جو آسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔ مورخه ۲۷ را پریل ۱۹۰۳ء کی شام کو فرمایا۔ مرزاغلام احمد ایک الہام رَبِّ إِنِّي مَظْلُومٌ فَانْتَصِرُ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۷