ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 93

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ جلد پنجم جو ہزار ہا آدمی کھچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بچارے کی عقل کم تھی وہ کہیں جانے لگا تو اس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہر ڈالے اور وزن کو برابر کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہوئے ، بھوک کا مارا ہوا سر پر پگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا اب ناحق جانور کو تکلیف دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتنا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا ۔ انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے تو سب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے اگر وہ فروتنی کسی اور جگہ کے لائق ہوگا تو میزبان خود اسے بلا کر جگہ دے گا اور اس کی عزت کرے گا۔ عوام عوام الناس کی کم فہمی پر فرمایا کہ الناس کی کم نہی جن لوگوں کے دل میں کبھی ہے وہ متشابہات کی طرف جاتے ہیں جن لوگوں نے حضرت موسیٰ اور عیسیٰ اور آن رت موسی اور عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کیا انہوں نے آیات بینہ سے فائدہ نہیں اٹھایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک حبشی عورت سے نکاح کیا تو لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ منجانب اللہ ہوتا تو حبشن سے نکاح نہ کرتا اس ذراسی بات پر ان کے تمام معجزات کو نظر انداز کر دیا۔ ( مجلس قبل از عشاء ) ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خواب بیان کیا جاتا معبر کی ۔ ما رائے کا اثر تعبیر پر نہیں پڑتا ہے تو یہ بات مشہور ہے کہ سب سے اول جو تعبیر معبر کرے وہی ہوا کرتی ہے اور اسی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کس و ناکس کے سامنے خواب بیان نہ کرنا چاہیے۔ فرمایا۔ جو خواب مبشر ہے اس کا نتیجہ انذار نہیں ہو سکتا اور جو مندر ہے وہ مبشر نہیں ہو سکتا اس لیے یہ بات غلط ہے کہ اگر مبشر کی تعبیر کوئی معبر منذر کی کرے تو وہ منذر ہو جاوے گا اور مندر مبشر ہو جاوے گا