ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 89

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد چهارم مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ دراصل تغیرات نطفہ کی طرف ایما ہے۔ یعنی جن جن تغیرات سے نطفہ طیار ہوتا ہے اس کو اس شعر میں ظاہر کیا گیا ہے۔ شائد بہت تھوڑے آدمی ایسے ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو کہ نطفہ بہت سے تغیرات سے بنتا ہے۔ جس اناج سے نطفہ بنا ہے نطفہ کی حالت میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت سے تغیرات میں ڈالا ہے اور پھر اس کو محفوظ رکھا ہے کیونکہ وہ در حقیقت نطفہ ہے۔ اپنے وقت پر وہ پیسا بھی جاتا ہے اور اس سے روٹی بھی طیار کی جاتی ہے لیکن وہ محفوظ کا محفوظ چلا آتا ہے۔ آج کل نطفہ کے متعلق جو تحقیقات ہوئی ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس میں کیڑے ہوتے ہیں یہ ایک الگ امر ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل میں وہ ایک قوت ہے جو برابر محفوظ چلی آتی ہے ممکن ہے کہ جو کچھ ڈاکٹروں نے سمجھا ہو وہ اسی قوت کو سمجھا ہو۔ ہر اناج کے ساتھ انسانیت کا خاصہ نہیں بلکہ وہ جوہر قابل الگ ہی ہے اور اس کو وہی کھاتا ہے جس کے لئے وہ مقدر ہوتا ہے اور وہ اسی دن کے لئے مقدر ہوتا ہے۔ وہ نطفہ جس میں روحانیت کی جز ہے بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ مضغہ علقہ وغیرہ چھ حالتوں میں سے گذرتا ہے اور ان چھ تغیرات کے بعد ثُمَّ انْشَانُهُ خَلْقًا أَخَرَ (المومنون: ۱۵) کا وقت آتا ہے اب اس آخری تبدیلی کو نشاء آخری کہا ہے یہ نہیں کہا ثُمَّ انْزَلْتُهُ رُوحًا آخر ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہر سے کوئی چیز نہیں آتی ۔ اب اس کو خوب غور سے سو چو تو معلوم ہوگا کہ روح کا جسم کے ساتھ کیسا ابدی تعلق ہے۔ پھر یہ کیسی بے ہودگی ہے جو کہا جاوے کہ جسم کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ کس قدر ز بر دست ثبوت روح کی ہستی کا ہے۔ اس کو کوئی معمولی نگاہ سے دیکھے تو اور بات ہے لیکن معقولیت اور فلسفہ سے سوچے تو اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہوا جو جسم اور روح دونوں سے کام نہ لے۔ اگر روح کوئی چیز نہیں تو ایک مردہ جسم سے کوئی کام کیوں نہیں ہو سکتا ؟ کیا اس کے سارے اعضا اور قومی موجود نہیں ہوتے ۔ اب یہ بات کیسی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ روح اور جسم کا تعلق جب کہ ابدی ہے۔ پھر کیوں کسی ایک کو بے کار قرار دیا جاوے۔