ملفوظات (جلد 4) — Page 88
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد چهارم ہے اور مقاصد زندگی پر غور کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ میری زندگی کی غرض خدا شناسی ہے اور اس پر ایمان لاتا اور اس کی عبادت کرتا ہے۔ تب وہ فرائض کو ادا کرتا اور نوافل کو شناخت کرتا ہے۔ وہ روحانیت جو ایمان کے بعد پیدا ہوتی ہے اب اسے تلاش کرو کہ کہاں ہے؟ نہ مولویوں میں ہے نہ راگ سننے والے صوفیوں میں ۔ یہ گوسالہ صورت ہیں۔ روحانیت سے بے خبر ہو کر ہزار سال تک بھی اگر نعرے مارتے رہیں تو کچھ نہیں بنتا۔ یہ لحوم اور دماء ہیں تقویٰ نہیں ، پھر لحوم اور دماء اللہ تعالیٰ کو کیسے پہنچ سکتا ہے؟ دہر یہ روح کا ہی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی چیز ہے ہی روح و جسم کا تعلق ابدی ہے نہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ حشر اسد کوئی چیز نہیں۔ یہاں روح تعلیم پا کر آئندہ کیا کرے گا۔ یہ خیالی باتیں ہیں ان میں معقولیت نہیں ہے۔ اگر روح کوئی چیز نہیں ہے تو پھر یہ کیا بات ہے کہ جسم پر جو فعل واقع ہوتے ہیں ان کا اثر اندرونی قوتوں پر بھی پڑتا ہے۔ مثلاً اگر مقدم الراس پر چوٹ لگ جائے تو اس فساد کے ساتھ انسان مجنون ہو جاتا ہے یا حافظہ جاتا رہتا ہے۔ مجنونوں کی روح تو وہی ہیں۔ نقص تو جسم میں ہے۔ جسم کا اگر اچھا انتظام نہ رہے تو روح بے کار ہو جاتا ہے وہ بدوں جسم کسی کام کا نہیں ہے اس لئے ہمیشہ جسم کا محتاج ہے جس کا انتظام عمدہ ہو روحانی حالت بھی اچھی ہوگی ۔ چھوٹے بچہ میں کیوں اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ عواقب الامور کو سمجھ سکے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں ابھی قومی کا نشو و نما کامل نہیں ہوا ہوتا۔ اسی طرح پیٹ میں جو نطفہ جاتا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ روح اس کے ساتھ کہاں سے چلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دراصل ایک مخفی قوت چلی جاتی ہے جو انبساط اور نشاط کا باعث ہوتی ہے۔ اسی طرح اناج میں بھی وہی کیفیت چلی آتی ہے۔ اسی کی طرف مولوی رومی نے اشارہ کر کے کہا ہے۔ ه ہفت صد هفتاد قالب دیده ام بیچو سبزه بار ہا روئیده ام نافہم اور کوڑ مغز لوگوں نے اس شعر کو تناسخ پر حمل کر لیا ہے اور کہتے ہیں اس سے تناسخ ثابت ہوتا ہے