ملفوظات (جلد 4) — Page 90
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۰ جلد چهارم دعا کے لئے بھی یہی قانون ہے کہ جسم تکالیف اٹھائے اور روح گداز ہو اور دعا کے قوانین پھر صبر اور استقلال سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر حسن ظن سے کام لیا جاوے۔ ہر یک کام کے لئے زمانہ ہوتا ہے اور سعید اس کا انتظار کرتے ہیں۔ جو انتظار نہیں کرتا اور چشم زدن میں چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ نکل آوے وہ جلد باز ہوتا ہے اور با مراد نہیں ہو سکتا۔ میرے نزدیک یہ بھی ممکن ہے اور ہوتا ہے کہ دعا کے زمانہ میں ابتلا کے طور پر اور بھی ابتلا آ جاتے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آئے تو ان کو پہلے مصر میں فرعون نے یہ کام دیا ہوا تھا کہ وہ آدھے دن اینٹیں پاتھا کریں اور آدھے دن اپنا کام کیا کریں۔ لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو نجات دلانے کی کوشش کی تو پھر شریروں کی شرارت سے بنی اسرا بنی اسرائیل کا کام بڑھا دیا گیا اور انہیں حکم ملا کہ آدھے دن تم اینٹیں پاتھا کرو اور آدھے دن گھاس لا یا کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب یہ حکم ملا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو سنایا تو وہ بڑے ناراض ہوئے اور کہا کہ موسیٰ ! خدا تم کو وہ دکھ دے جو ہم کو ملا ہے اور بھی انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو بددعائیں دیں مگر موسیٰ علیہ السلام نے ان کو یہی کہا کہ تم صبر کرو۔ تو رات میں یہ سارا قصہ لکھا ہے کہ جوں جوں موسیٰ علیہ السلام انہیں تسلی دیتے تھے وہ اور بھی افروختہ ہوتے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ مصر سے بھاگ نکلنے کی تجویز کی گئی اور مصر والوں کے کپڑے اور برتن وغیرہ جو لئے تھے وہ ساتھ ہی لے آئے ۔ جب حضرت موسی قوم کو لے کر نکل آئے تو فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا تعاقب کیا۔ بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ فرعونیوں کا لشکر ان کے قریب ہے تو وہ بڑے ہی مضطرب ہوئے چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس وقت وہ چلائے اور کہا إِنَّا لَمُدْرَكُونَ (الشعراء: ۶۲) اے موسیٰ ہم تو پکڑے گئے مگر موسیٰ علیہ السلام نے جو نبوت کی آنکھ سے انجام کو دیکھتے تھے انہیں یہی جواب دیا كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِيْنِ (الشعراء : ۲۳ ) ہر گز نہیں ۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ لے الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱ ، ۲