ملفوظات (جلد 4) — Page 87
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۷ جلد چهارم ابْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی کی آواز اس وقت آئی جب کہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے اور عمل دکھ سے آتا ہے۔ لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا ۔ دیکھو! ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری تیاری کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچا لیا۔ وہ آگ میں ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کرسکی۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف سے بچا لیتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں جسم تو ہے روح نہیں ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ روح کا تعلق جسم سے ہے اور جسمانی امور کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے اس لئے یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ جسم سے روح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس قدر اعمال انسان سے ہوتے ہیں وہ ایسی مرکب صورت سے ہوتے ہیں ۔ الگ جسم یا اکیلی روح کوئی نیک یا بد عمل نہیں کرتی ۔ یہی وجہ ہے جزا وسزا میں بھی دونوں کے متعلقات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض لوگ ایسے راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کر دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا بہشت جسمانی ہے۔ حالانکہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ جب اعمال کے صدور میں جسم ساتھ تھا تو جزا کے وقت الگ کیوں کیا جاوے؟ غرض یہ ہے کہ اسلام نے ان دونوں طریقوں کو جو افراط اور تفریط کے ہیں کہیں چھوڑ کر اعتدال کی راہ بتائی ہے۔ یہ دونوں خطر ناک باتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ مجرد تعذیب جسم سے کچھ نہیں بنتا اور محض آرام طلبی سے بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس نور محمد نام ٹانڈہ سے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ ولایت کا مقام غلام محبوب سبحانی نے ولی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے۔ اب ولایت کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ غلام محبوب سبحانی یا کسی نے سرٹیفکیٹ دے دیا۔ حالانکہ ولایت ملتی نہیں جب تک انسان خدا کے لئے موت اختیار کرنے کے لئے طیار نہ ہو جاوے۔ دنیا میں بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں جن کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ وہ دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ حالانکہ یہی پہلا سوال ہے جس کو اسے حل کرنا چاہیے۔خودشناسی کے بعد خدا شناسی پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنے فرائض کو سمجھتا