ملفوظات (جلد 4) — Page 65
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد چهارم حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔ قاصد نے پوچھا کہ میں آ کر جواب لے جاؤں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔ حضرت اقدس نے فرمایا ۔ خواہ تم لے جاؤ خواہ ثناء اللہ آ کر لے جائے ۔ پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔اس نے کہا محمد صدیق ۔ ۱۱ جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبه فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز مولوی ثناء ثناء اللہ کے رقعہ کا جواب آپ نے وہ رقعہ جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایا تھا۔ احباب کو سنایا۔ وہ رقعہ یہ تھا ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از طرف عايذ باللہ الصمد غلام احمد عافاه الله واید بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ۔ آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعوی سے تعلق رکھتے ہوں ، رفع کر اویں کے ساتھ اور بھی جو ہے تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور او باشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے طیار ہوں ۔ اگر چہ آپ نے اب بھی اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعوے پر آپ قائم رہ سکیں ۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور اور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ ل البدر جلد ا نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۳