ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 64

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد چهارم میں آئے ہوئے ہیں مگر آپ نے اس کے متعلق صرف یہی فرمایا کہ ہزاروں لوگ راہ رو آتے ہیں ہمیں اس سے کیا ؟ مغرب کی نماز با جماعت ادا کر کے جب حضرت اقدس دولت سرا کو تشریف لے چلے تو ایک شخص نے ہاتھ میں قلم دوات لئے ہوئے حضرت کی خدمت میں کچھ کا غذات پیش کئے ۔ اس قلم دوات سے اس کی یہ غرض تھی کہ حضرت سے رقعہ کی رسید لے مگر حضرت نے توجہ نہ کی اور اس کے وہ کاغذات لے کر تشریف لے گئے اور جب عشاء کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک ہی مضمون کے دو رقعہ مولوی ثناء اللہ کی طرف سے پہنچے ہیں۔ نہیں معلوم کہ دو رقعوں کی کیا غرض تھی ۔ اور و اس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کے واسطے تھا مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرات نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالہ کیا گیا کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔ حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ ہم طیار ہیں وہ ہفتہ عشرہ آرام سے سب باتیں سنے۔ اور اس کا منشا مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔ اگر اس کو طلب حق کی ضرورت ہے تو رفق ور آہستگی سے اپنی تو غلطی دور کر دے۔ طالب حق کے واسطے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ہاں جو شخص ایک منٹ رہ کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہیں ہو سکتا بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے۔ ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں ۔ ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں گھمار کے ہاں جا کر اترے۔ چاہیے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔ پھر فرمایا کہ ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیویں گے۔ اس کے بعد حضرت اقدس جب نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اللہ صاحب کے قاصد نے آواز دی کہ حضرت جی ! مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے؟