ملفوظات (جلد 4) — Page 66
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۶ جلد چهارم کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہر گز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے۔ اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسی پر یا حضرت موسیٰ پر یا حضرت یونس پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زدنہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دوسطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں ۔ تیسری یہ شرط ہو گی کہ ایک دن میں صرف صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے ۔ چوروں کی طرح آگئے اور ہم ان دنوں میں باعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتے ۔ و وام یادر ہے یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا ۔ جیسے صم بکھ۔ یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے۔ اوّل صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ میں تین گھنٹہ تک اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہو گا کہ اس کو سناویں ہم خود پڑھ لیں گے ۔ مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں ۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جاویں گے لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقع دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ۱۴ جنوری ۱۹۰۳ ء تک میں اس جگہ ہوں ۔ بعد میں ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سواگر چہ بہت کم فرصتی ہے ۔ لیکن ۱۴ رجنوری تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے