ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 54

ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد چهارم رضا مندی کے لئے اکثر مجھے عدالتوں وغیرہ میں بھی جانا پڑتا تھا۔ جب سے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں کیا کسی نے دیکھا ہے کہ ہم نے ان باتوں میں سے کوئی حصہ لیا ہے۔ حالانکہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اگر چاہیں تو لیویں۔ ( بين المغرب والعشاء ) حضور نے نماز ادا کر کے مجلس کی اور ایک دو مختلف ذکروں سیرت مسیح موعود کی چند باتیں کے بعد میاں محمد دین صاحب از گوجرانوالہ نے عرض کی کہ جناب ٹھیک ٹھیک پتر یہاں سے روانگی کا فرمادیں تو کچھ کھانے پینے کا انتظام کر کے گوجرانوالہ پر اگر جناب حاضر رہوں ۔ خدا کے برگزیدہ نے فرمایا کہ ہمیں تو خدا ہی لے جاتا ہے۔ اسی کے حکم سے جانا ہے۔ ابھی کیا معلوم کسی وقت روانہ ہونا ہے۔ انسان بہت عاجز اور بیچ ہے۔ خدا ہی کے ساتھ وہ جاتا ہے اور خدا ہی کے ساتھ وہ آتا ہے۔ دیگر احباب نے عرض کی کہ ایک اور صاحب نے راستہ کی خوراک کا انتظام کر لیا ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ دل میں جو اخلاص ہے اس کا ثواب آپ پالیویں گے ۔ کیونکہ اب دعوت آپ کی طرف سے تو پیش ہو گئی ۔ علالت طبع پر فرمایا کہ اب دو تین دن سیر بند رہے گی۔ کیونکہ آج کل بارشیں نہیں ہوئیں۔اس لئے راستہ میں خاک بہت اڑتی ہے اور اسی سے میں بیمار بھی ہو گیا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ چونکہ لوگ حضور کے آگے آگے چلتے ہیں ۔ اس لئے خاک بہت اڑ کر آپ پر پڑتی ہے۔ لیکن اس مجسم رحم انسان نے جواب دیا کہ نہیں ۔ بارش کے نہ ہونے سے یہ تکلیف ہے۔ اللہ اللہ کیا رحم ہے اور حسن ظن ہے کہ اپنے احباب کو ہر گز ملزم نہیں ٹھہراتے )