ملفوظات (جلد 4) — Page 53
ملفوظات حضرت مسیح موعود صرف نوح کی قوم پر تباہی آئی تھی۔ ۵۳ جلد چهارم ایک شخص نے سوال کیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب مسیح ناصری کے آنے سے ختم نبوت ٹوٹتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب کے مماثلت کی حقیقت دعوی نبوت سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی ؟ فرمایا کہ مسیح کا یہ دعوی کہاں ہے کہ جس طرح ہم اپنے آپ کو امت محمدیہ میں اور پھر آنحضرت کی اتباع میں فنا شدہ کہتے ہیں انہوں نے بھی کہا ہو۔ وہ تو حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے اور مماثلت کا سلسلہ چاہتا ہے کہ کوئی اور ہی آوے وہ نہ آئیں۔ مماثلت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بالکل اس کا عین ہو۔ جیسے کسی کو شیر کہیں تو اب اس کے لئے دم تجویز کریں اور پھر گوشت کا کھانا بھی ۔ خدا کے کلام میں استعارات ہوا کرتے ہیں مثلاً کسی کو کہا جاوے کہ اس نے ایک رکابی چاولوں کی کھائی تو اس کے یہ معنے نہ ہوں گے کہ وہ رکابی کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا گیا۔ مماثلت میں صرف بعض پہلوؤں میں تشابہ ہوتا ہے جیسے آنحضرت کو مثیل موسیٰ کہا کہ جیسے موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون سے چھڑا یا آنحضرت نے بھی اپنی قوم کو طاغوت اور بتوں سے رہائی دلوائی۔ مشابہت میں ہو بہو عین نہیں ہوتا۔ ورنہ وہ تو پھر حقیقت ہوگی نہ کہ مشابہت ۔ عرب صاحب نے ادھر ادھر غیر آبادی کو دیکھ کر عرض کی کہ یہ صرف حضور ہی کا دم ہے کہ جس کی قادیان خاطر اس قدرا نبوہ ہے ورنہ اس غیر آباد جگہ میں کون اور کب آتا۔ فرمایا کہ اس کی مثال مکہ کی ہے کہ وہاں بھی عرب لوگ دور دراز جگہوں سے جا کر مال وغیرہ لاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں ۔ اسی کی طرف اشارہ ہے اس سورۃ میں لا يُلْفِ قُرَيْشِ الْفِهِم - (قريش: ۲) لوگوں کے اس اعتراض پر کہ جو شخص لا وارث مر جاتا ہے اس کے وارث ایک اعتراض کا جواب میرزا صاحب ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے بہت ملک املاک جمع کرتے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ والد صاحب ایسے دنیاوی کاموں میں مجھے مامور کر دیا کرتے تھے اور ان کے حکم اور