ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 52

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲ جلد چهارم ریل وغیرہ کے ذکر پر فرمایا کہ قرآن کریم سے اس زمانہ کی خبر اس زمانے میں خدا نے ہماری جماعت کو فائدہ پہنچایا نے جماعت ہے کہ سفر کو بہت آرام ہے ورنہ کہاں سے کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا انسان ایک دوسرے مقام پر پہنچتا تھا۔ مدراس جہاں سیٹھ عبدالرحمان ہیں اگر کوئی جاتا تو گرمیوں میں روانہ ہوتا تو سردیوں میں پہنچتا تھا۔ اس زمانے کی نسبت خدا نے خبر دی ہے وَ إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التکویر : ۸) کہ جب ایک اقلیم کے لوگ دوسرے اقلیم والوں کے ساتھ ملیں گے۔ لے وَ إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتُ (التکویر : 11) یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعہ عام ہوں گے اور کتب کثرت سے دستیاب ہو سکیں گی ۔ وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ (التکویر: ۵) اس وقت اونٹنیاں بے کار ۔ ہوں گی ۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہزار ہا اونٹ آیا کرتے مگر اب نام و نشان بھی نہیں ہے اور مکہ میں بھی اب نہ رہیں گے۔ ریل کے جاری ہونے کی دیر ہے۔ کسوف و خسوف اور شق القمر پھر عرب صاحب نے کسوف و خسوف رمضان کی نسبت دریافت کیا کہ اس کا ذکر آپ کی کتب میں بھی ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ یہ ایک پرانا نشان چلا آتا تھا جو کہ اس وقت پورا ہوا ہے۔ براہین احمد یہ میں اس کا ذکر استعارہ کے طور پر اس طرح ہے وَ إِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرُ مُسْتَمِر یہ میرا الہام بھی دو ہے اور بعض محدثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شق القمر بھی ایک قسم خسوف میں سے تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حوالہ دیا کہ عبد اللہ ابن عباس کا بھی یہی مذہب ہے ) اور شاہ عبدالعزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارا اپنا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔ کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں ۔ نوح علیہ السلام کے طوفان کی نسبت فرمایا کہ طوفان نوح قرآن سے یہ ثابت نہیں ہے کہ کل زمین کی آبادی کو اس وقت تباہ کر دیا تھا۔ البدر جلد نمبر ۳ ۱ ل البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ صفحه ۲۱