ملفوظات (جلد 4) — Page vi
چہارم ۔ روایات ہیں ۔ وہ بھی ایک نوع ملفوظات کی ہیں مگر وہ ساتھ ساتھ ضبط میں نہیں لائی گئیں بلکہ راویوں کے حافظہ کی بنا پر جمع ہوئی ہیں ۔ پس اگر کوئی بات ملفوظات میں آپ کی تالیف کردہ کتب و رسائل میں شائع شدہ بات کے خلاف ہو یا آپ کے تعامل کے خلاف ہو تو ملفوظات میں مندرج بات کو چھوڑ دیا جائے گا اور آپ کی کتب و رسائل میں شائع شدہ بات کو ترجیح دی جائے گی ۔ کیونکہ ملفوظات میں یہ یقینی نہیں کہ ان کے لکھنے والوں نے تمام الفاظ حضرت اقدس کے ہی لکھے ہوں ۔ ملفوظات کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بسا اوقات حضرت اقدس کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں بطور مثال ملاحظہ ہو ( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۵۷)۔ دو ایڈیٹر صاحب الحکم“ لکھتے ہیں :۔ ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ بعض ناقص ابھی موجود تھے اُن کی تکمیل کے لئے آئے ۔“ اور ایڈیٹر صاحب البدر“ لکھتے ہیں :۔ بعض لوگ مدینہ میں ناقص تھے اور معرفت کے پیاسے تھے ان کو کامل کرنے اور دلوں کی پیاس بجھانے کے لئے آپ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے ۔“ اسی طرح ملفوظات جلد سوم صفحہ ۷۴ ۳ و ۷۵ ۳ ملاحظہ ہو ۔ ایڈیٹر صاحب البدر لنڈن کے جھوٹے مسیح پکٹ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں :۔ اب ہماری سچی کشتی نوح جھوٹی پر غالب آجائے گی ۔“ یورپ والے کہا کرتے تھے کہ جھوٹے مسیح آنے والے ہیں سواول لنڈن میں ایک جھوٹا مسیح آگیا اس کا قدم اس زمین میں اول ہے بعد ازاں ہمارا ہو گا جو کہ سچا مسیح ہے ۔“ اور ایڈیٹر صاحب ”الحکم“ لکھتے ہیں :۔ معقول باتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ رہ جاتی ہیں لیکن جاہلانہ باتوں کی رونق دو تین سطروں ہی میں جاتی رہتی ہے ۔ جھوٹھے نبیوں اور مسیحوں کا قدم پہلے لندن میں