ملفوظات (جلد 4) — Page vii
رکھا گیا اور سچے مسیح کی آواز اس کے بعد لندن میں پہنچے گی ۔ ،، پس اس اصل کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ملفوظات کا درجہ حجت اور سند پکڑنے کے لحاظ سے تیسرے درجہ پر ہے۔ پس اگر ملفوظات کی کوئی عبارت ایسی ہو جو حضور کی تالیف کردہ کتب اور رسائل کی کسی عبارت کے مخالف ہو یا آپ کے تعامل کے مخالف ہو تو وہ لائق ترک ہوگی ۔ کیونکہ بہت ممکن ہے کہ ملفوظات کے لکھنے والے نے حضرت اقدس کے مفہوم کو صیح طور پر اخذ نہ کیا ہو۔ لیکن باوجود اس کے ملفوظات طیبہ کی اہمیت اور ان کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ملفوظات خدا تعالیٰ کے مقدس مسیح اور اس کے سچے مامور اور ان کی پاک مجالس کا نقشہ پیش کرتے ہیں جن میں حضرت اقدس اپنے جاں نثار اتباع کی روحانی ترقیات اور ان کے ازدیاد ایمان و عرفان کے لئے قیمتی نصائح فرمایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رض ایڈیٹر ” الحکم کو اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر ” البدر اور ان کے رفقاء کو جنہوں نے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ان مطائبات کو اپنے اخبارات کے کالموں میں محفوظ کر دیا۔ اے ہمارے پیارے خدا! تو انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرما اور ہم سب کی طرف سے انہیں سلامتی کا پیغام پہنچا۔ آمین ذیل میں ملفوظات کی اس جلد کا انڈیکس بصورت خلاصہ مضامین درج کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری عاجزانہ التجاء اور دعا ہے کہ وہ ان ملفوظات طیبہ کو نافع الناس بنائے ۔آمین خاکسار جلال الدین شمس ربوہ ۔ یکم جولائی ۱۹۶۲ء