ملفوظات (جلد 4) — Page 37
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷ جلد چهارم اٹھ کر دعا شروع کر دے کہ بہت جلد ابھی دن نکل آوے تو خواہ وہ کچھ ہی کرے مگر دن تو اپنے وقت پر ہی چڑھے گا۔ نیکی کے ذکر پر فرمایا کہ جائز امور میں اعتدال نیکی کی جڑ یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذات اور شہوات جو اور شہوات جو کہ جائز ہیں ان کو بھی حد اعتدال سے زیادہ نہ لیوے جیسا کہ کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے حرام تو نہیں کیا مگر اب اسی کھانے پینے کو ایک شخص نے رات دن کا شغل بنالیا ہے۔ اس کا نام دین پر بڑھانا ہے ورنہ یہ لذات دنیا کی اس واسطے ہیں کہ اس کے ذریعہ نفس کا گھوڑا جو کہ دنیا کی راہ میں ہے وہ کمزور نہ ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے یکہ والے جب لمبا سفر کرتے ہیں تو سات یا آٹھ کوس کے بعد وہ گھوڑے کی کمزوری کو محسوس کر کے اسے دَم ( دلا دیتے ہیں اور نہاری وغیرہ کھلاتے ہیں تا کہ اس کا پچھلا تکان رفع ہو جاوے تو انبیاء نے جو حظ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح ہے کیونکہ ایک بڑا کام دنیا کی اصلاح کا ان کے سپر د تھا۔ اگر خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو ہلاک ہو جاتے ۔ اس واسطے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت عائشہ کے زانو پر ہاتھ مار کر فرماتے کہ اے عائشہ راحت پہنچا۔ مگر انبیاء کا یہ دستور نہ تھا کہ اس میں ہی منہمک ہو جاتے ۔ انہاک بے شک ایک زہر ہے ایک بدمعاش آدمی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک صالح بھی کرے تو خدا کی راہیں اس پر نہیں کھلتیں۔ جو خدا کے لئے قدم اٹھاتا ہے خدا کو اس کا ضرور پاس ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) تنعم اور کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام ہی تقویٰ ہے۔ صرف یہی گناہ نہیں ہے کہ انسان زنا نہ کرے چوری نہ کرے یہی گناہ کہ نہ بلکہ جائز امور میں بھی حد اعتدال سے نہ بڑھے۔ ایک دفعہ حضرت عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلا وسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ کے پاس آئے۔ آپ اندر ایک جر میں تھے۔ حضرت عمر نے اجازت چاہی۔ آپ نے اجازت دی۔ حضرت عمر نے آ بازت دی۔ حضرت عمر نے آ کر دیکھا کہ صف کھجور کے