ملفوظات (جلد 4) — Page 36
ملفوظات حضرت مسیح موعود تا کہ پھر ان کو ڈا کہ مارتے شرم آوے۔' ۶ جنوری ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) ۳۶ جلد چهارم اول طاعون کا ذکر ہوتا رہا اور پھر موت کی حالت کا ذکر آیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ موت یہ بھی ایک وقت ہے جو انسان پر آتا ہے مگر یہاں آ کر سب علوم ختم ہو جاتے ہیں ہیں اور کوئی کچھ نہیں بتلاتا۔ بعض احباب اپنے اپنے خواب سناتے رہے اور حضرت اقدس ان کی تعبیر فرماتے رہے چند ایک ان میں سے واقفیت عام کے لئے درج کی جاتی ہیں ۔ خواب میں اپنا ختنہ کرنا ۔ تعبیر الرؤیا تقوی کا طریق اختیار کرنا ہے۔ اس سے مراد شہوات کا کالنا ہے۔ قیامت کی خبر سننا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلت کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔ قرآن شریف میں ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشوری: ۸) اسی دن ہو گا دنیا کی رنگا رنگ کی وبائیں بھی قیامت ہی ہیں ۔ میرے الہام میں ہے يَأْتِي عَلى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ - یہ طاعون کے بعد طاعون کی نسبت ہے۔ اسے بھی جہنم ہی کہا گیا ہے حالانکہ جنم تو قیامت کو ہونا ہے ۔ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کار روائی ہو لے گی تو پھر طاعون ایک دم چپ کر کے سو جاوے گی۔ پھر اس کے بعد یہ بھی فرمایا ہے يُغَاثُ النَّاسُ وَ يَعْصِرُونَ پھر بارشیں ہوں گی ۔ کشادگی ہوگی ۔ فصلیں خوب پکیں گی۔ موتوں سے لوگ بچیں گے۔ اب اس وقت لوگوں کا دعا ئیں کرنا کہ یہ طاعون دور ہو بے فائدہ ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جب ایک شخص پہر رات رہے البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخه ۲۳، ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳، ۴