ملفوظات (جلد 4) — Page 38
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد چهارم پتوں کی آپ نے بچھائی ہوئی ہے اور اس پر لیٹنے سے پیٹھ پر پتوں کے داغ لگے ہیں۔ گھر کی جائداد کی طرف حضرت عمر نے نظر کی تو دیکھا کہ ایک گوشہ میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے ۔ آنحضرت نے پوچھا کہ عمر تو کیوں رویا ؟ عرض کی کہ خیال آتا ہے کہ قیصر و کسری جو کافر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں ۔ فرمایا۔ میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس سے میں حرکت کر سکوں ۔ میری مثال یہ ہے جیسے ایک مسافر سخت گرمی کے دنوں میں اونٹ پر جا رہا ہو اور جب سورج کی تپش سے وہ بہت تنگ آوے تو ایک درخت کو دیکھ کر اس کے نیچے ذرا آرام کر لیوے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو پھر اٹھ کر چل پڑے ۔ تو یہ اسوۂ حسنہ ہے جو کہ اسلام کو دیا گیا ہے۔ دنیا کو اختیار کرنا بھی گناہ ہے اور مومن کی زندگی اضطراب کے ساتھ گذرتی ہے۔ پر ہماری دو آنکھیں ہیں اور کیا کچھ دیکھ رہی ہیں اور کوئی فولا دوغیرہ کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔ ذرا بینائی جاتی رہے تو پھر اپنی ہستی کا اندازہ ہو جاتا ہے اور جب اندھا ہوا تو موت ہی ہے۔ تو دنیا کی زندگی کا بھی یہی حساب ہے۔ مومن کو اس زندگی پر ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہیے۔ دنیوی زندگی نا قابل اطمینان ہے اتنی بلائیں اس زندگی میں ہیں کہ شان ہیں۔ ایک بیماری ہوتی ہے کہ انسان کا پاخانہ کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور منہ کے راستہ پاخانہ آتا ہے اور اس کا نام ایلاؤس ہے پھر اسی طرح گردہ اور مثانہ کی بیماریاں ہیں کہ رنگا رنگ کے سرخ ، سبز اور سیاہ پتھر ہے اس گردہ اور ہیں رنگا بن جاتے ہیں اور ان کا کوئی خاص سبب بھی کیا بیان ہو سکتا ہے بلکہ امراء لوگ جو کہ عمدہ غذا اور نفیس پانی استعمال کرتے ہیں انہی کو ایسے امراض ہوتے ہیں۔ اگر دو شخص ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ ایک ہی قسم کی ان کی خورونوش ہو۔ پھر ایک ان میں سے ایسے عوارضات میں مبتلا ہو جاتا ہے دوسرا نہیں ہوتا ۔ اسی لئے طب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ ظنی علم ہے۔ علل مادیہ میں یہ لوگ اسباب کی تحقیق کرتے ہیں مگر اس کا بھی سبب بتلادیں کہ جب الہام ہونے لگتا ہے یا کشف تو اس وقت نیندسی آنے لگتی