ملفوظات (جلد 4) — Page 359
جلد چهارم ۳۵۹ ملفوظات حضرت مسیح موعود ترجمه فارسی عبارات مندرجہ ملفوظات جلد چهارم ترجمه فارسی وہ سال جو اچھا ہے اس کی بہار سے ہی معلوم اور ظاہر ہوتا ہے۔ میرا محبوب ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو عیش کے تارک ہوں۔ انسان جو حد مشترک ہے وہ مسیحا بھی بن سکتا ہے اور گدھا بھی ۔ آئندہ سال کا حساب کون جانتا ہے جو دوست گذشتہ سال ہمارے ساتھ تھے وہ اب کدھر گئے ۔ اے محبوب ظاہر ہے کہ تیری بارگاہ بہت بلند ہے۔ اس نے فضول خیال جمایا اور جھوٹی توقعی رکھی ۔ میں بار بار نباتات اور ہر یاؤں کی شکل میں اگا ہوں میں سات سوستر یعنی بے شمار سانچوں سے گزرا ہوں ۔ بارش جس کی پاکیزہ فطرت میں کوئی ناموافقت نہیں ، وہ باغ میں تو پھول اگاتی ہے اور شورہ زمین میں گھانس پھونس ۔ بخدا دوزخ کے عذاب کے برابر ہے ہمسایہ کے بل بوتے پر بہشت میں جانا۔ اگر چہ محبوب تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے۔ وہ خدا جس سے اہل جہاں بے خبر ہیں اس نے مجھ پر اپنا جلوہ کیا ہے اگر وہ اہل ہے تو قبول کر۔ از صفحه نمبر ۳۹ ۵۷ ۵۸ ۷۶ ۸۴ ۸۸ ۹۸ ۱۰۱ ١٠٦ ۱۰۹ 1