ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 355

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۵ جلد چهارم بھی ایسی ہو کہ وہ مسیح موعود کی تائید کرے جب خدا کسی بات کو چاہتا ہے کہ وہ ہو جاوے تو وہ تمام زمانہ کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے پھر ہر طرف سے اس کی تائید ہی تائید ظاہر ہوتی ہے کیا زمین کیا آسمان گویا سب ہی اس کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ اگر زمین کسی اور طرف رجوع کرے اور آسمان کسی اور طرف تو پھر حالت ٹھیک نہیں رہتی ۔ اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ہماری تائید کرے اور چاہتا ہے کہ ہر قسم کے شرک، کفر اور بطلان کو ذلیل کر کر تو حید کی سچائی کو دنیا میں قائم کرے۔ اسی لیے اس نے تمام زمانہ میں ایک عجیب تحریک پیدا کر دی ہے اور ہر ایک طرف سے ہماری ہی تائید نظر آتی ہے مثلاً ایک ذراسی آگ تمام جہان کے جلانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح زمانہ میں یہ آگ لگ گئی ہے اور اب تو یہ ہوا چل رہی ہے کہ ان کے دلوں میں پھونک دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام پرانے اور بے معنے بلکہ غیر معقول خیالات سے خود بخود بیزار ہو کر حقیقت اور راستی کے جو یاں ہو جاویں ۔ جیسے اب جرمن کے بادشاہ کے مذہب میں سخت انقلاب ہوا ہے۔ یہی ایک کافی مثال ہے۔ جب سلاطین کے دل میں اللہ کریم نے ایسے ایسے خیالات ڈال دیئے ہیں تو رعیت کا تو بہت سا حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو کہ بادشاہ کے مذہب کے ہوتے ہیں اور اپنے بادشاہ کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی شان ہے کہ ایک زمانہ میں تو حضرت مسیح کی حد سے زیادہ اور مبالغہ سے بڑھ کر تعریف کی گئی تھی اور اب اس کارڈ درودیوار سے خود بخو دعیاں ہوتا جاتا ہے۔ ( مجلس قبل از عشاء ) بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نام ہوتے ہیں مگر خلوص حضرت ابوطالب کی نجات دل سے وہ اسلام کے مداح ہوتے ہیں انکے ذکر پرفرمایا کہ ابی طالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی۔ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شریر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برابر کر دیوے۔ اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی۔ احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہوئی ہے ممکن ہے