ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 354

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۴ جلد چهارم پھیر دینا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوم انسان اس پر عمل کب کر سکتا ہے اور نہ کسی سے آج تک اس طرح کے عفو پر عمل ہو سکا ۔ انجیل کی اس تعلیم کے متبع عیسائی لوگ کبھی بھی اس مسئلہ پر عمل نہ کر سکے۔ آج کسی عیسائی کو ایک بات کہو جو کہ اس کی مرضی کے برخلاف ہو پھر دیکھو وہ کتنی سناتا ہے اور عدالت کی طرف دوڑتا ہے کہ نہیں ۔ بعض نادان عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اس تعلیم سے یہ مقصود ہے کہ مار اور طمانچہ کھا کر عرضی ڈال دو اور عدالت سے چارہ جوئی کرو۔ لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ اگر کسی شخص نے ایک عیسائی کو طمانچہ مار کر اس کے دانت نکال دیئے پھر اس نے حسب حکم شریعت دوسری گال آگے کی اور اس نے ادھر کے بھی دانت نکال دیئے کیونکہ دشمن کا طمانچہ کوئی پیار کا طمانچہ تو نہ ہو گا وہ تو تمام قوت سے طمانچہ مارے گا اب جب دونوں طرف کے دانت نکل گئے تو پھر عدالت میں جانے سے وہ دانت کیا واپس لگ جاویں گے؟ اگر مجرم کو سزا بھی ہو گی تو اس کو کیا ملے گا ؟ جو ساری عمر کے لیے ایک نعمت سے محروم ہو کر عمدہ کھانے پینے بولنے کی لذات سے جاتا رہا۔ ایسے ہی اگر ایک بد کا رکسی عیسائی کی عورت پر ناجائز حملہ کرنا چاہے تو وہ عیسائی اس وقت تو اس کا مزاحم نہ ہو مگر بعد میں عدالت کے ذریعے چارہ جوئی کرے اور گواہ اور ثبوت دیتا پھرے عجب تعلیم ہے۔ پھر ذکر ہوا کہ بلا د یورپ اور امریکہ اور جرمن وغیرہ میں آج کل ایک عجیب تحریک پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ لوگ خود بخودہی ان خیالات فاسدہ سے دست کش ہوتے جاتے ہیں اور ان کی تجویز ہے کہ ان تثلیث اور کفارہ کے بے دلیل خیالات کو مہذب دنیا سے اُڑا کر با دلیل اور آزادی پسند خیالات نو جوانوں کے آگے پیش کئے جاویں۔ فرمایا کہ اب خدا چاہتا ہے کہ اس کی توحید دنیا میں قائم ہوا اور اسی توحید کے قیام کے آثار کا تصرف تمام دنیا پر اور لوگوں کے دلوں پر رہے اور کوئی کام نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ نہ چاہے۔ اس زمانہ میں ان تمام پرانی، جہالت کے زمانہ کی غلطیوں کا اس طرح خود بخود ظاہر ہو جانا یہ بھی ایک مسیح موعود کے زمانہ کی نشانی ہے تا کہ زمانہ کی حالت