ملفوظات (جلد 4) — Page 353
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۳ جلد چهارم دو شخصوں میں باہمی دوستی کمال درجہ کی تھی اور ایک دوسرے کا کمال دوستی کا ایک واقعہ محسن تھا۔ اتفاقاً ایک شخص سفر میں گیا دوسرا اس ۔ سفر میں گیا دوسرا اس کے بعد اس کے گھر میں آیا اور اس کی کنیز سے دریافت کیا کہ میرا دوست کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپے والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے؟ کنیز نے کہا کہ میرے پاس ہے اس نے کنیز سے وہ صندوق منگوا کر چابی لی اور خود کھول کر کچھ روپیہ اس میں سے لے گیا جب کہ صاحب خانہ سفر سے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا۔ یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا کہتا تھا ؟ کنیز نے کہا کہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگوا کر خود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کر لے گیا۔ پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہوا کہ بہت ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا مان لیا اس کو ناراض نہیں کیا۔ اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کام کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے میں آج ہی تجھ کو آزاد کرتا ہوں ۔ غرض جس قدر یہ جرائم ہیں جن کی نواہی کی شریعت میں تاکید ہے مثلاً گلہ نہ کرو، چوری نہ کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب صفات بد استعمال کی وجہ سے خراب ہو گئے ہیں۔ ورنہ حقیقتا ان کا موقع اور محل پر استعمال درست اور انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ عفو ایک موقع پر تو قابل استعمال ہوتا ہے اور بعض موقع پر قابل ترک ۔ کیونکہ اگر کسی مجرم کو بار با رعفو ہی کر دیا جاوے تو وہ اور زیادہ بے باک ہو کر جرم کرے گا۔ ایسے موقع پر اس سے انتقام لینا ہی عفو ہوتا ہے۔ گا۔ اسے موقع پر سےانتقام لینای عضوہوتا انجیل کی غیر متوازن تعلم انہی کی تعلیم میں جوکہ بعض جگہ زیادہ نری کی ہدایت ہے اس کا کی غیر بھی کہیں نا یہی وہ تو بھی یہی مقصود ہوگا کیونکہ وہ تو صرف یہود کے لیے ہے (اس کی تمام تعلیم بالمقصود تھی جو کہ سخت سرکش اور ظالم طبع لوگ تھے۔ اس مسئلہ کو آج کل لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہے برہمولوگوں نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں میں نے ایک برہمو کی کتاب میں دیکھا وہ لکھتا ہے کہ تمام عمر ما رہی کھاتے جانا اور ہمیشہ طمانچے کھانا بلکہ ایک گال زخمی کرا کر دوسری گال بھی