ملفوظات (جلد 4) — Page 345
ملفوظات حضرت مسیح موعود له لد جلد چهارم اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعدا پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطع کے فتح کا گھر بنا۔ ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلمانوں کی حالت تو خود مورد عذاب اور شامت اعمال سے قہر الہی کے نزول کی محرک بنی ہوئی ہوئی ہے اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل وکرم کی جاذب مطلق نہیں رہی ۔ جب تک یہ خود نہ سنوریں تب تک خوشحالی کا منہ نہیں دیکھ سکتے ۔ اعلاء کلمۃ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں ۔ اس لیے خدا کے آگے دست دعا پھیلانے کا قصد کر لیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلاح کرے اور شیطان کو ہلاک کرے تا کہ خدا کا سچا نور دنیا پر دوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے۔ بنی اسرائیل کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ قوم فسق و فجور میں تباہ ہو جاتی اور اس کی توحید و جلال کو بالکل بھول جاتی تھی تو ان کے انبیاء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبش دیا کرتے تھے۔ دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کر رہے ہیں مسلمانوں کی کس قدر ذریت کو انہوں نے برباد کیا ہے۔ کس قدر خاندان ان کے ہاتھوں سے نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے۔ اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحید اور جلال کی ہتک ہو اور اس کے رسول کی زیادہ بے عزتی کی جاوے ۔ اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نور کو اب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سواس نے مجھے بھیجا اور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقرر کروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پر غالب آؤں تا کہ اول آخر سے مطابق ہو جاوے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعے سے شیطان پر فتح نصیب ہوئی تھی اب آخری آدم کے لو مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔ اے البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۵،۸۴