ملفوظات (جلد 4) — Page 346
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۶ جلد چهارم ۲۶ مارچ ۱۹۰۳ء (بوقت سیر ) لے رفع یدین کے متعلق فرمایا کہ رفع یدین اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا ، خواہ کوئی کرے یا نہ کرے احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے اور وہابیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کیونکہ ایک تو رفع یدین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا اور بعد ازاں ترک کر دیا۔ فرمایا کہ اکیلا ایک وتر کہیں سے ثابت نہیں ہوتا۔ وتر ہمیشہ تین ہی پڑھنے چاہئیں۔ خواہ تینوں وتر اکٹھے ہی پڑھ لیں خواہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر لیں اور پھر ایک رکعت الگ پڑھی جاوے۔ ر با بونبی بخش صاحب احمدی کلرک لاہور نے عرض کی کہ بعض وقت تو دل میں خود بخود قبض و بسط با او بسط ایک ایسی تحریک پیدا ہوتی ہے کہ طبیعت عبادت کی طرف راغب ہوتی ہے اور قلب میں ایک عجیب فرحت اور سرور محسوس ہوتا ہے اور بعض وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ نفس پر جبر اور بوجھ ڈالنے سے حلاوت پیدا نہیں ہوتی اور عبادت ایک بارگراں معلوم ہوتی ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ اسے قبض اور بسط کہتے ہیں قبض اس حالت کا نام ہے جب کہ ایک غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور خدا کی طرف محبت کم ہوتی ہے اور طرح طرح کے فکر اور رنج اور غم اور اسباب دنیوی میں مشغول ہو جاتا ہے اور بسط اس کا نام ہے کہ انسان دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور موت کو ہر وقت یا درکھے ۔ جب تک اس کو اپنی موت بخوبی یاد نہیں ہوتی وہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا۔ موت تو ہر وقت قریب آتی جاتی ہے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے قریبی رشتہ دارفوت ل البدر سے۔ فرمایا۔” آج میری طبیعت علیل تھی اس لئے میری آنکھ لگ گئی جب اٹھا تو یہ الفاظ زبان پر جاری تھے دو یا سنائی دیئے ۔” طاعون کا دروازہ کھولا گیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون اب پیچھا نہیں ؟ اب پیچھا نہیں چھوڑتی ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۰)