ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 344

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۴ جلد چهارم کا جواب خود بخودہی ہو جاتا ہے اور اسی کے ادھورا رہنے سے سینکڑوں اعتراضات ہم پر وارد ہو سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتا بیں لکھی ہیں مگر ان سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں۔ اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلا یا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسانی طاقت سے درہم برہم ہو سکے ۔ دانا آدمی جانتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے۔ یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی واسطے ہم نے ان ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑ کر دعا کے واسطے یہ مکان ( حجرہ ) بنوایا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء : ۹۷) اس امر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر پا کریں گے ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں؟ کیا یہ قو میں دیواروں اور ٹیلوں کو کو دتی اور پھاندتی پھریں گی؟ نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کر لیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی ۔ واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے اس آیت فتح دعا کے ذریعہ ہوگی معنی خدا تعالیٰ ۔ نا دیتے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کے امیدوں کے آخری دن ہیں چاہیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا مگر اب تو معاملہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ ان کے واسطے آسمانی طاقت کام کرے گی جس کا ذریعہ دعا ہے۔ غرضیکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ساٹھ یا پینسٹھ سال عمر سے گذر چکے ہیں ۔ موت کا وقت مقرر نہیں ۔ خدا جانے کس وقت آجاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔ رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشا نہیں ہے لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ