ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 338

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۸ جلد چهارم حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پوشیدہ رکھا کرتے ہیں وہ اپنے صدق و وفا کو دوسروں پر ظاہر کرنا عیب جانتے ہیں ۔ ہاں بعض ضروری امور کو جن کی اجازت شریعت نے دی ہے یا دوسروں کی تعلیم کے لیے اظہار بھی کیا کرتے ہیں۔ نیکی جو صرف دکھانے کی غرض سے کی جاتی ہے وہ ایک لعنت ہوتی ہے۔ خدا کے وجود کے رياء ساتھ دوسروں کا وجود بالکل پہنچ جانا چاہیے دوسروں کے وجود کو ایک مردہ کیڑے کی طرح خیال کرنا چاہیے۔ ان کے کسی قسم کے نفع یا ضرر کا خوف نہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ کچھ کسی کا بگا ڑ نہیں سکتے اور نہ سنوار سکتے ہیں ۔ نیکی کو نیک لوگ اگر ہزار پردوں کے اندر بھی کریں تو خدا نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اسے ظاہر کر دے گا اور اسی طرح بدی کا حال ہے بلکہ لکھا ہے کہ اگر کوئی عابد زاہد خدا کی عبادت میں مشغول ہو اور اس صدق اور جوش کا جو اس کے دل میں ہے انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو اور اتفاقاً کنڈی لگانی بھول گیا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آکر اس کا دروازہ کھول دے تو اس کی حالت بالکل وہی ہوتی ہے جو ایک زانی کی عین زنا کے وقت پکڑا جانے سے۔ کیونکہ اصل غرض تو دونوں کی ایک ہی ہے یعنی اخفائے راز اگر چہ رنگ الگ الگ ہیں ایک نیکی کو اور دوسرا بدی کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے غرض خدا کے بندوں کی حالت تو اس نقطہ تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ نیک بھی چاہتے ہیں کہ ہماری نیکی پوشیدہ رہے اور بدبھی بد بھی اپنی بدی کو پوشیدہ رکھنے کی دعا کرتا ہے مگر اس امر میں دونوں نیک و بد کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنا رکھا ہے کہ وَاللهُ مُخْرِجُ مَا كُنتُم تكتمون (البقرة: ۷۳ ) ۔ خدا کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہا عبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں مگر کی گوشینی اور کے مزے لینے ہیںمگر ان کو خدا تعالیٰ کشاں کشاں خلق کی بہتری کے لیے ظاہر کرتا اور مبعوث فرماتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو غار میں ہی رہا کرتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کسی کو پتا بھی ہو آخر خدا نے ان کو باہر نکالا اور دنیا کی ہدایت کا باران کے سپرد کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر