ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 337

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۷ جلد چهارم طرح سے قائم ہونا چاہیے۔ دیکھو! ایک طبیب جب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس کی پوری طرح تعمیل کرنی چاہیے ورنہ فائدہ سے ہاتھ دھونے چاہئیں۔ ایک شخص اگر بجائے اس نسخہ کے تحریر کردہ امور کے اس کاغذ ہی کو دھو دھو کر پیے تو اسے فائدہ کی امید ہوگی؟ ہر گز نہیں ۔ پس اسی طرح تم بھی ہماری ہر ایک بات پر قائم رہو۔ جھوٹی اور خشک محبت کام نہیں آتی بلکہ تعلیم پر پوری طرح سے عمل کرنا ہی کارآمد ہوگا۔ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا ہے وہ بڑا رحیم کریم اور ماں سے، باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے مگر وہ دغا باز کو بھی خوب جانتا ہے۔ تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص چاہتا تھا قبولیت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں بڑا قابل اعتماد ا بنے اور لوگ اسے نمازی اور روزہ دار اور بڑا پاکباز کہیں اور اسی نیت سے وہ نماز لوگوں کے سامنے پڑھتا اور نیکی کے کام کرتا تھا مگر وہ جس گلی میں جاتا اور جدھر اس کا گذر ہوتا تھا لوگ اسے کہتے تھے کہ دیکھو یہ شخص بڑار یا کار ہے اور اپنے آپ کو لوگوں میں نیک مشہور کرنا چاہتا ہے۔ پھر آخر کا ر اس کے دل میں ایک دن خیال آیا کہ میں کیوں اپنی عاقبت کو برباد کرتا ہوں خدا جانے کس وقت مر جاؤں گا کیوں اس لعنت کو میں اپنے لیے تیار کر رہا ہوں کے اس نے صاف دل ہو کر پورے صدق وصفا اور سچے دل سے توبہ کی اور اس وقت سے نیت کر لی کہ میں سارے نیک اعمال لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کیا کروں گا اور کبھی کسی کے سامنے نہ کروں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا کرنا شروع کر دیا اور یہ پاک تبدیلی اس کے دل میں بھر گئی نہ صرف زبان تک ہی محدود رہی ۔ پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایسا بنالیا کہ تارک صوم وصلوٰۃ ہے اور گندہ اور خراب آدمی ہے مگر اندرونی طور پر پوشیدہ اور نیک اعمال بجالاتا تھا ۔ پھر وہ جدھر جاتا اور جدھر اس کا گذر ہوتا تھا لوگ اور لڑ کے اسے کہتے تھے کہ دیا نے تھے کہ دیکھو یہ شخص بڑا نیک اور پارسا ہے۔ یہ خدا کا پیارا اور اس کا برگزیدہ ہے۔ غرض اس سے یہ ہے کہ قبولیت اصل میں آسمان سے نازل ہوتی ہے اولیاء اور نیک لوگوں کا یہی ل البدر سے ۔ میں نے خدا کی نماز ایک دفعہ بھی نہ پڑھی ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۴)