ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 325

ملفوظات حضرت مسیح موعود کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتے ہیں ۔ ۳۲۵ ع شب تنور گذشت و شب سمور گذشت جلد چهارم غرباء اور مساکین بھی جن کو کھانے کو ایک وقت ملتا ہے اور دوسرے وقت نہیں ملتا اور آرام کے مکان بھی نہیں ہوتے ان کی بھی گزر ہی جاتی ہے اور امراء اور پلاؤ زردے کھانے والوں اور عمدہ مکانوں اور بالا خانوں میں رہنے والے بھی اپنے دن پورے کر ہی رہے ہیں۔ کسی کا دکھ درد سے اور کسی کا عیش میں گزارہ ہوتا ہے مگر عاقبت کا دکھ جھیلنا بہت مشکل ہے اور وہ عذاب اور اس کے دکھ درد نا قابل برداشت ہوں گے لہذا دانا وہی ہے کہ جو اس ہمیشہ رہنے والے جہان کی فکر میں لگ جاوے۔ سو تم نمازوں کو سنوارو اور خدا تعالیٰ کے احکام کو اس کے فرمودہ کے بموجب کرو۔ حقیقت نماز اس کی نواہی سے بچے رہو۔ اس کے ذکر اور یاد میں لگے رہو ۔ دعا و۔ دعا کا سلسلہ ہر وقت جاری رکھوا اپنی نماز میں جہاں جہاں رکوع و سجود میں دعا کا موقع ہے دعا کرو اور غفلت کی نماز کو ترک کر دو۔ رسمی نماز کچھ ثمرات مترتب نہیں لاتی اور نہ وہ قبولیت کے لائق ہے۔ نماز وہی ہے کہ کھڑے ہونے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع خضوع اور حضور قلب سے ادا کی جاوے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ زاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جاوے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح کمال ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو۔ دیکھو! یہ زمانہ بے وقت موتوں کا زمانہ آگیا ہے۔ بھلا پہلے کبھی تم بے وقت موتوں کا زمانہ نے اپنے باپ و دادا سے بھی سنا ہے کہ اس طرح اچانک موت کا سلسلہ کبھی جاری ہوا ہو۔ رات کو اچھا بھلا کام کاج کرتا اور چلتا پھر تا آدمی سوتا ہے اور صبح کو ایسی نیند میں سویا ہوا ہوتا ہے کہ جس سے جاگنا ہی نہیں ۔ اب جس گھر میں یہ موت آئی ، گھر کا گھر اور گاؤں کے گاؤں اس نے خالی کر دیئے ابھی انجام کی خبر نہیں ۔ کیا کیا دن آنے ہیں ۔ ایک نادان اپنی نادانی کی وجہ سے جب طاعون چند دن کے لیے رک جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کسی مصلحت سے اسے بند کرتا