ملفوظات (جلد 4) — Page 324
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۴ جلد چهارم اس سے پیدا ہوتی ہے اور شراب کی نسبت لکھا ہے رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (المائدة: 91) یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت کا انگور ایسا ہی ہو کہ بغیر سڑا نے گلانے کے اس کے تازہ شیرہ میں نشہ ہوتا ہو جیسے تاڑی کہ ذراسی دیر کے بعد اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ تمباکو کی نسبت فرمایا کہ تمبا کو یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق و فجور کی طرف رغبت ہو گر تا ہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پر ہیز کرے۔ منہ میں اس سے بد بو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھواں اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے۔ اگر آنحضرت کے وقت یہ ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے ۔ ایک لغو اور بیہودہ حرکت ہے ہاں مسکرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے ۔ اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یو نہی مال کو بے جا صرف کرنا ہے۔ عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی تھے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ہے۔ انگریز بھی چاہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں۔ لے در بار شام ) چند نو وارد شخصوں نے بیعت کی۔ اور بعد از بیعت فرمایا۔ نو مبایعین کونصیحت دیکھا بیعت تو تہاری ہو چکی تہیں چاہے کہ الہتعالی سے ڈرتے رہو خدا کا قہر سخت ہوتا ہے اگر چہ دنیا کا عذاب بھی سخت اور نا قابل برداشت ہوتا ہے مگر تا ہم جس طرح ہوتا ہے۔ اچھے برے دن گزر جاتے ہیں مگر آخرت کا عذاب تو نا پیدا کنار ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس کے واسطے کافی سامان کیا جاوے۔ ہمیں کہنا پڑتا ہے کیونکہ جو شخص آتا ہے اور بیعت کرتا ہے ہم پر فرض ہوتا ہے کہ اسے کرنے اور نہ کرنے کے کاموں سے آگاہ کریں ۔ جیسا بے خبر آیا تھا ویسا ہی بے خبر واپس نہ جاوے۔ ایسا ہونے سے معصیت کا خوف ہے اسے کیوں نہ بتایا گیا ؟ سو تم سوچ لو کہ مقدم امر دین ہی کا ہے دنیا کے دن تو البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۲