ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 314

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۴ جلد چهارم سود اور سود در شود ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خان صاحب نے لکھا ہے اَضْعَافًا مضْعَفَةً (ال عمران: ۱۳۱) کی ممانعت ہے۔ فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ شود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے۔ شریعت کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے۔ یہ فقرہ اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔ اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جب کہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گورنمنٹ ؟ رنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جائیداد تائب ہو تو اس کے پاس جو اول جا ئیداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا۔ شریعت کا حکم ہے کہ تو بہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جاوے۔' رشوت اور ہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہیے۔ رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جاوے ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جود یا جاوے گا۔ وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔ انشورنس ہے اور بیمہ پر سوال کیا گیا۔ انشورنس یا بیمه فرمایا ک سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں ل الحکم سے ۔ اور اگر پتا نہ لگے تو پھر اسے صدقہ وخیرات کر دے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) الحکم میں اس سوال سے پہلے ایک اور سوال اور اس کا جواب یوں درج ہے۔ در سوال ۔ رہن کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس ۔ ہمارے نزدیک رہن جب کہ نفع و نقصان کا ذمہ دار ہو جاتا ہے اس سے فائدہ اُٹھا نا منع نہیں “ فائنا الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶)