ملفوظات (جلد 4) — Page 313
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ جلد چهارم اگر آگ میں بھی پڑا ہو تو اسے حوصلہ ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو آخر آگ میں ڈالا ہی تھا۔ ویسے ہی ہم بھی آگ میں ڈالے گئے ۔ اے خون کا مقدمہ بنایا گیا ۔ اگر اس میں ۵ یا دس سال کی قید ہو جاتی تو سب سلسلہ تباہ ہو جا تا۔ سب قوموں نے متفق ہو کر یہ آگ سلگائی تھی۔ کیا کم آگ تھی؟ اس وقت سوائے خدا کے اور کون تھا ؟ اور وہی الہام ہوئے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوئے تھے آخر میں الہام ہوا ” ابراء “ اور تسلی دی کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ۔ ان کی پراویڈنٹ فنڈ تنخواہ میں سے ارد سے ار(ایک آنہ ) فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلا دے گا۔ ہے لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ و عید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف ہے وہ سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دے دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔ خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ شود میں داخل نہیں ہے۔ لے الحکم سے ۔ ” ڈگلس کے سامنے جو کلارک کا مقدمہ تھا وہ اس آگ سے کم نہ تھا۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) الحکم سے ۔ لیکن جب کہ محکمہ ریلوے کے ملازم خود وہ روپیہ سود کے لالچ سے نہیں دیتے بلکہ جبرا وضع کیا جاتا ہے تو یہ سود کی تعریف میں داخل نہیں ہے اور خود جو کچھ وہ روپیہ زائد دے دیتے ہیں وہ داخل سود نہیں ہے۔ غرض یہ خود دیکھ سکتے ہو کہ آیا یہ روپیہ سود لینے کے لیے تم خود دیتے ہو یا وہ خود وضع کرتے ہیں اور بلا طلب اپنے طور پر دیتے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶)